5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
حبیب بینک انتظامیہ پر نجکاری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
جنگ نیوز -
کراچی …راجہ کامران …حبیب بینک کے سابق ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ بینک کی موجودہ انتظامیہ نے نجکاری کے معاہدے کے خلاف اقدامات کئے ہیں اور ملازمین کو قانونی طریقہ کار کے بغیر برطرف کیا ہے جبکہ حبیب بینک انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے?حبیب بینک کے برطرف ملازمین کی نتظیم کے سربراہ سید مختار احمد نے کراچی پریس کلب میں میڈیا کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ بینک کی انتظامیہ کو نجکاری معاہدے کے تحت پانچ کروڑ سے زائد حصص عام مارکیٹ میں فروخت کرنا تھے مگر انتظامیہ نے چارکروڑ 53 لاکھ سے زائد حصص 325 روپے فی حصص کی قیمت پر فروخت کیئے جبکہ ایک کروڑ 3 لاکھ حصص کی فروخت اس وقت کی گئی جب ان کی قیمت 425 روپے تک پہنچ گئی تھی?اس طرح بینک کی اتنظامیہ نے اربوں روپے کمائے?انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے ملازمین کو فارغ کر کے بینک میں کام کرنے والے اعلی افسران کی ملکیت میں کمپنی قائم کر کے دوبارہ ملازمت دی گئی ہے، جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے?ان الزامات پر حبیب بینک کے ترجمان شجاعت علی بیگ کا کہنا تھا کہ 2006 میں نجکاری کے وقت آغاز فاؤنڈیشن کو51 فیصد حصص اور حکومت کے پاس49 فی صد حصص رہ گئے تھے اور 2007 میں حکومت نے اپنی شراکتداری کو مزید ساڑھے سات فی صد اولین عوامی فروخت کے ذریعے کھلی مارکیٹ میں فروخت کیااور اس عمل سے حبیب بینک کی انتظامیہ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا?دوسرے الزام کا جواب دیتے ہوئے شجاعت علی بیگ کا کہنا تھا کہ نجکاری کے بعد انتظامیہ نے نان کلیریکل کیڈر کو ختم کرتے ہوئے ملازمین کو گولڈن ہینڈشیک دیا تھا اور انہی ملازمین کی شراکت داری پر مبنی دو کمپنیاں قائم کیں اور اس میں فارغ ہونے والے ملازمین کو نوکری بھی دی ہے ان کمپنیوں میں بینک کی موجودہ انتظامیہ کا کوئی فرد کام نہیں کررہا ہے?