5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
سارک نے دہشت گردی کو خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دے دیا
جنگ نیوز -
تھمپو… سارک رہنماؤں نے ہر شکل میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطہ میں امن، سلامتی اور اقتصادی استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا ہے اور غربت ، توانائی، ماحول اور پانی کی کمی جیسے مسائل سے مل کر نمٹنے پر اتفاق کیا ہے? جمعرات کو یہاں 16 ویں سارک سربراہ کانفرنس کے اختتام پر سرسبز اور خوشحال جنوبی ایشیاء کی طرف سے پیشرفت کے موضوع پر 37 نکاتی تھمپو سلور جوبلی اعلامیہ جاری کیا گیا? اعلامیہ میں سارک رہنماؤں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تنظیم نے اپنے قیام کے 25 سال مکمل ہونے پر کئی اہم سنگ میل عبور کئے ہیں? انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیاء میں ترقی اور ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے عمل اور اپنے خیالات کے تبادلہ کیلئے ساؤتھ ایشیا فورم قائم کیا جائے گا? سارک سربراہ کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے مو?ثر رابطوں اور عوامی سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا?تمام رہنماؤں نے اس اقدام کو سراہا کہ تنظیم کے رکن ممالک میں کثیر الجماعتی جمہوریت ہونے کے باوجود انہیں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مو?ثر، شفاف اور جوابدہ حکومتیں موجود ہیں? اس سلسلہ میں انہوں نے باہمی تجربات سے استفادہ اور اداروں کے درمیان روابط کے ذریعے بہتر نظم و نسق کو مضبوط بنانے کیلئے علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا?سارک رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو سربراہ کانفرنس کا موضوع بنانے کا بھی خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مو?ثر اقدامات کئے جائیں گے? سارک رہنماؤں نے علاقائی اور ذیلی علاقائی پروگراموں اور منصوبوں کیلئے سارک ڈویلپمنٹ فنڈ کے اہم کردار کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلہ میں سارک ڈویلپمنٹ فنڈ کے مستقل سیکرٹریٹ اور اس کے پہلے چیف ایگزیکٹو کے تقرر کا خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سافٹا پر پوری طرح عملدرآمد کیا جائے گا?سارک رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تجارت کے شعبہ میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور کہا کہ خشکی میں گھرے ہوئے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچہ کی سہولیات کی فراہمی اور راہداری کی سہولیات کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں?سارک رہنماؤں نے ہر شکل میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اور اقتصادی استحکام کو درپیش دہشت گردی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا? سارک رہنماؤں نے سربراہ کانفرنس میں مبصر ممالک آسٹریلیا، عوامی جمہوریہ چین، اسلامی جمہوریہ ایران، جاپان، جمہوریہ کوریا، ماریشس، میانمر، امریکہ اور یورپی یونین کی شرکت کا بھی خیرمقدم کیا اور سارک میں ان کی دلچسپی کو سراہا? سارک رہنماؤں نے 17 ویں سارک سربراہ کانفرنس کے انعقاد کیلئے مالدیپ کی پیشکش کا بھی خیرمقدم کیا?