تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41

60ملین ڈالر کے وجود اور این آر او فیصلے پر عمل درآمد پرجامع جواب طلب

جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے وزیرقانون بابر اعوان سے سوئس کیسز میں ساٹھ ملین ڈالر کے وجود اور این آر او فیصلے پر عمل درآمد کا جامع جواب طلب کرلیا ہے جبکہ حکومت نے عدالت کو بتایا ہے کہ صدرزرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں کیس دائر نہیں ہوئے بلکہ صرف تفتیش ہوئی ، جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے5 رکنی بنچ میں این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی تو وزیرقانون بابر اعوان وہاں پیش تھے، کمرہ عدالت میں وفاقی وزرا صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر، وفاقی وزراء قمرزمان کائرہ، راجہ پرویز اشرف، آیت اللہ درانی، مخدوم امین فہیم،وزیراعظم کے مشیر لطیف کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے? بابر اعوان نے این آر او فیصلے پر عمل درآمد کے اقدامات بیان کئے اور کہا کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خلاف ریفرنس کیلئے سمری وزیراعظم کو بھیج دی ہے ? اسلام آباد میں2نیب کورٹس کی منظوری دے دی گئی ہے ، سوئس کیسز پر انہوں نے بتایاکہ اس کی راہ میں رولز آف بزنس حائل ہیں ?ریکارڈ کے مطابق صدر زرداری کیخلاف کوئی سوئس کیس نہیں ، وہاں صرف یک طرفہ تفتیش ہوئی ، جسٹس جواد ایس خواجہ نے پوچھا کہ سوئٹزرلینڈ سے60 ملین ڈالرواپس لانے کے کیا اقدام ہوئے تو بابر اعوان نے کہا کہ سوئس مجسٹریٹ کے پاس تفتیش میں یہ معاملہ نہیں تھا ، اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ?جسٹس راجا فیاض نے پوچھا کہ جو رقم سوئس حکام نے منجمد کی وہ کس کی تھی تو بابر اعوان نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ وہ مصروفیت کے باعث ملک سے باہرجارہے ہیں اس لئے مزید جواب کیلئے مہلت دی جائے ، عدالت نے وزیرقانون سے جامع جواب طلب کرتے ہوئے سماعت10 جون تک ملتوی کردی?سماعت کے بعد وفاقی وزیر بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تصادم کی تمام افواہیں دم توڑ گئیں، اداروں کے درمیان تصادم ہوا نہ آئندہ ہوگا? انہوں نے کہا کہ وہ سماعت کے دوران چندنئے پہلو سامنے لایاہوں جوباہرنہیں بتاسکتا،عدالت سے باہر عدالتی کارروائی پرتبصرہ نہیں کروں گا،بابر اعوان نے بتایا کہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ آیندہ میرے بجائے اٹارنی جنرل پیش ہوں ،ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے سامنے گزارشات پیش کرینگے اور پھر حکمت عملی طے کی جائے گی?ان کے مطابق حکومت نے اپنی تمام قانونی اور آئینی ذمے داریاں پوری کی ہیں اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کیا ہے، جس کی واضح مثال ایل این جی کیس اور بیورو کریسی کی ترقیوں کے حوالے سے فیصلے پر عمل درآمد ہے? قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہم عدالتوں کے ساتھ ہیں ،کارروائی دیکھنے آئے تھے،60 ملین ڈالر سے متعلق عدالت میں بتایا کہ یہ متنازع معاملہ ہے اورہوائی باتیں ہیں?

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.