5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
پنجاب بینک اسکینڈل،سپریم کورٹ کانیب تفتیش کاروں پر عدم اعتماد
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے پنجاب بینک اسکینڈل میں قانونی فیس سے زائد کروڑوں روپے کی رقم لینے والے وکلا کے خلاف نیب کی تفتیش پرعدم اطمینان کااظہارکیاہے? چیف جسٹس پاکستان نے نیب حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا،ہمیں علم ہے کہ نیب پر دباو ہے اور ان کی جان نکلی ہوئی ہے اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ سب کو بلا کر خود اس کی تفتیش کریں?چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل بینچ نے پنجاب بینک فراڈ کیس کی سماعت کی ? چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب صیحح طریقے سے کام کرتا تو اربوں روپے بیرون ملک نہ جاتے ، قوم کا پیسہ واپس آنا چاہیے ،خواہ وہ ملک میں ہے یا ملک سے باہر? جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ جنہیں وہ پکڑتے ہیں انہیں اگلے دن اعلی? عہدے پر فائز کر دیا جاتا ہے ، چوروں کو تحفظ دیا جارہا ہے، ہم یہاں دیواروں سے ٹکریں مار رہے ہیں ? بینک آف پنجاب کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اب کلچر یہ ہوگیا ہے کہ اس کیس میں جن پر الزامات ہیں ، انہیں نیب کا پراسیکیوٹر جنرل بنادیا گیا ہے ? چیف جسٹس نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر راجاعامر سے پوچھا کہ پراسیکیوٹر نیب کی تقرری کون کرتا ہے ، جس پر بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کے مشورے پر صدر مملکت تقرر کرتے ہیں ، اس پر چیف جسٹس نے ڈائریکٹر انویسٹی گیشن نیب کی سرزنش کی کہ عرفان قادر کے خلاف کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، جس پران کاکہناتھاکہ محض ملزم کے بیان پر کسی کو گرفتارنہیں کیا جاسکتا ? خواجہ حارث نے شیخ افضل کا نیب کی طرف سے عدالت میں داخل بیان پڑھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک قیوم ، شریف الدین پیرزادہ ، بابر اعوان اور وسیم سجاد کو عرفان قادر کے ذریعے وکیل مقرر کیا گیا اور اس کے لیے مختلف مواقع پر انہیں کروڑوں روپے رقم ادا کی گئی?