5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
پاکستان میں سالانہ 8سے 10ارب روپے کے ٹائر وں کی اسمگلنگ
جنگ نیوز -
کراچی …جنرل ٹائر اینڈ ربر کمپنی کے منتظم اعلی? محمد شاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 8 سے10 ارب روپے مالیت کے گاڑیوں کے ٹائرز اسمگلنگ کے ذریعے آتے ہیں جس سے مقامی صنعتیں متاثرہورہی ہیں?جنرل ٹائر اینڈ ربر کمپنی کے منتظم اعلی? محمد شاہد حسین نے جیو نیوز سے بات چیت میں بتایا کہ پاکستان میں گاڑیوں کے55 لاکھ ٹائرز کھپت ہے جبکہ پیداوار25 لاکھ ہے جس کی وجہ سے درآمد کرنی پڑتی ہے لیکن اسمگلنگ کے ذریعے گاڑیوں کے ٹائرز کی آمد کے باعث مقامی صنعت متاثر ہورہی ہے? انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹائر کی درآمد پر5 سے25 فی صد تک ڈیوٹی عائد ہے لیکن درآمد کنندگان ٹائر کی درآمد پرحقیقی قیمت سے کم ظاہر کرتے ہیں جس سے ڈیوٹی کم لگنے کی وجہ سے ٹائر کی قیمت مقامی صنعت کے مقابلے میں سستی ہوجاتی ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے?انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو گاڑیوں کے ٹائر کی ڈیوٹی میں کوئی کمی بیشی نہیں کرنی چاہیے بلکہ بھارت کی طرح مقامی انڈسٹری کوتحفظ فراہم کرنا چاہیے?