5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بھی ’یوم تکبیر‘ کی تقریبات کا انعقاد
جنگ نیوز -
جدہ…دنیا بھر کی طرح سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بھی یوم تکبیر کی تقریبات منعقد ہوئیں جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے نماز جمعہ کے بعد پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ ملک کے استحکام کے لئے دعائیں کیں? جدہ میں ً مجلس محصورین پاکستانً کے تحت ایٹمی دھماکے کی 12ویں سالگرہ یوم تکبیر کے حوالے سے ایک سمپوزیم ’ایٹیمی ٹیکنالوجی: ہماری ضرورت اور ذمہ داری‘ کے عنوان سے منعقد کیاگیا?مہمان خصوصی انجینئر سید نیاز احمد صدر پاکستان رائٹرز فورم نے ایٹمی صلاحیت کے حصول میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دوسرے سائنسدانوں کی کاوشوں کا تذکرہ کیا جس کے نتیجے میں آج پاکستا ن ایٹمی ٹیکنالوجی میں اعلی مقام کا حامل ہے تاہم مقررین نے کہا کہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے عوامی استعمال یعنی میٹھے پانی کا حصول ، زراعت اور طب وغیرہ کے شعبوں میں پیش رفت نہ ہونے سے ملک شدید بحران کا شکارہو گیا?سماجی کارکن طارق محمود ،خاتون صحافی و تجزیہ نگار سمیرا عزیز ، حلقہ یاران وطن کے چیرمین انجینئر افتخار چوہدری ،سماجی کارکن گلاب خان نے کہا کہ دشمنان اسلام کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت قبول نہیں اسی لئے پاکستان کے خلاف نئی نئی سازشیں ہوتی رہتی ہیں? شیخ محمد لقمان ،آغا محمد اکرم ، کنوینئر سید احسان الحق نے سمپوزیم سے خطاب کیا? معروف شعرا نسیم سحر، سید محسن علوی، عبدالقیوم واثق اور گل انور نے منظوم کلام پیش کیا?دوسری تقریب پاکستان مسلم لیگ نون نے منعقد کی جس میں مقررین پاکستان مسلم لیگ سعودی عرب کے مرزا الطاف،ممتاز کاہلون،چوہدری جعفر،اور طائف سے آئے ہوئے مسلم لیگی کارکنوں نے شرکت کی? مقررین نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا سہرا میاں محمد نواز شریف اور ڈاکٹر قدیر،ڈاکٹر مبارک ثمر مند کو جاتا ہے? مقررین نے کہا کہ آج پاکستان ،انڈیا اورمغربی ملکوں کی نظروں میں اسی لئے کھٹک رہا ہے کہ وہ ایک ایٹمی قوت ہے، لیکن پاکستان کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ پھوڑ دی جائے گی?تقریب سے عنایت جاڑا،ڈاکٹر عارف،راجہ ریاض،راجہ کمال ار دیگر مقرررین نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا جس پر یومِ تکبیر لکھا تھا?تقریبات میں جمعہ کے روز ہونے والے لاہور کی مساجد پر دہشت گرد کارروائی کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک کے نظریات کو کمزور کرنے والی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور ان کے خلاف سخت اقدامات کرے?