تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43

پاکستان بچانے کی جنگ کر رہے ہیں،حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،زرداری

جنگ نیوز -
نیو یارک…فارن ڈیسک… صدر پاکستان آصف علی زرادری نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو بچانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں، حکومت کے خاتمے کا کوئی خطرہ نہیں اور ہم ہمسایہ ممالک سے معاشی تعلق کو فروغ دینا چاہتے ہیں? امریکی جریدے ’نیوز ویک‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر پاکستان نے ٹائمز اسکوائر کے واقعات کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تناو? اور پاکستان پر اس کے اثرات کے سوال پر کہا کہ میں یہ خیال نہیں کرتا کہ آپ کو اسلام آباد یا واشنگٹن میں پھیلی افواہوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے? فیصل شہزاد کا اگر پاکستان سے تعلق ہے تو آخر کار وہ امریکی شہری بھی تو ہے، ایسی برائی کا کوئی علاج نہیں ہیں، تاہم امریکا کے ساتھ تعاون بہتر ہے? اس سوال پر کہ کہا جا رہا ہے شہزاد نے شمالی وزیرستان میں تربیت حاصل کی اور وہاں فوجی آپریشن کی ضرورت ہے صدر پاکستان نے کہا کہ ہر کوئی اپنے گیم پلان کے لحاظ سے کام کر رہا ہے، ہم پاکستان کو بچانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں اور اسی کے مطابق کام کر رہے ہیں جو نقشہ ہمارے ہاتھ میں ہے?آصف زرداری نے کہا کہ میں امریکا میں تھا جب طالبان نے اپریل2009میں بونیر پر قبضہ کر لیا تھا، جس نے مجھے وطن واپسی پر مجبور کیا?میں نے امریکا پر واضح کر دیا تھا کہ ہم ان سے نمٹ لیں گے اور ہم بخوبی نمٹے? ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستانی طالبان کی مالی مدد کون کر رہا ہے? اجمل قصاب کے حوالے سے بھارت کے ساتھ آئندہ کیا ہوگا کے سوال پر زرادری نے کہا کہ میں توقع رکھتا ہوں کہ بھارت سب سے بڑی جمہوریت کادعوے دار ہونے کے ناتے دانش مندی کا کردار ادا کرے اور یہ کہ ہم بھارت کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتے? ہم مشرقی اور مغربی سرحدوں پر خطرات میں گھرے ہوئے ہیں? دہشت گردی کے اس نئے دور میں جہاں چند لوگ پوری ریاست یا ملک کو جنگ کی حالت میں لے جا سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان ،بھارت یا بنگلا دیش سے تعلق رکھتے ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا? یہ محض غیر ریاستی عناصر ہیں اور ریاستوں کو ریاستوں کی طرح عمل کرنا چاہیے? بھارت کے ساتھ جارحانہ تعلق پر آصف علی زرادری نے کہا کہ میں کبھی بھی بھارت کے بارے انتہا پسند یا جارحانہ خیالات نہیں رکھتا? میں فطرتاً روشن خیال اور اصولاً جمہوریت پسند ہوں?جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میرے نزدیک جنگ کبھی بھی آپشن نہیں رہا? ایران کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات کے بارے امریکی رد عمل پر صدر پاکستان نے کہا کہ مواقع سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لئے امریکا کی طرف سے کبھی بھی دباو? نہیں رہا? آپ نے سنا ہوگا کہ ایران ہمیں بجلی فراہم کرنے پر تیار ہے، تاہم ٹرانسمشن لائنز نہیں ہیں اور اس کے لئے چار سال کاعرصہ درکار ہے?ان چار سالوں میں ہم ڈیم بنا سکتے ہیں اور ہم بنائیں گے? ہم تما م ہمسایہ ممالک سے تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تا ہم کسی بھی کام کے لئے پاکستان پر کوئی دباو? نہیں ڈال سکتا ?ہم وہی کچھ کرتے ہیں جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا? پاکستان کی سفارتی کام یابیوں کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی ضرورت بن چکا ہے ?اپنی شرائط پر آئی ایم ایف پیکیج، پاکستان کی امداد میں توسیع، امریکا کے ساتھ نئے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ سفارتی کامیابیا ں ہیں اور دوسرے ممالک کی طرح ہم نے بھی پاکستان کا نیا وژن تخلیق کیا ہے?ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا ابھی تک ہم سے روٹھا ہوا ہے? پاکستان میں میڈیا کے تنقیدی کردار پر انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی اس لحاظ سے وہ کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں? ترقی پزیر ممالک میں یہ حکمرانی کا حصہ ہے?پاکستان آج بہت سے چیلجز کا سامنا کر رہا ہے، لہذا ہمارے اندرونی اور بیرونی مسائل کو بھول جانے کی ضرورت ہے? اگر آپ لوگوں کی حالت زندگی کا تجزیہ کریں اور پھر ذمہ داری لیں تو بہت سے مسائل آپ کو غیر اہم نظر آئیں گے? انہوں نے زور دیا کہ معاملات کو وسیع نکتہ نظر سے دیکھیں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے معلوم ہوگا کہ ملک خطرے سے دوچار ہے?کیا حکومت کے گرنے کے کوئی خطرہ ہے کے سوال پر آصف زرادری نے کہا کہ میرے خیال میں آج تمام سیاسی قوتیں پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور اپنے آپ کو بہتر کر رہی ہیں?18ویں ترمیم ان کی دانشمندی کا ثبوت ہے ?میں محسوس کرتا ہوں کہ جمہوری قوتوں نے پاکستان میں بہت کچھ سیکھا اورحاصل کیا ہے? ہم سیاسی لوگ ہیں اور مثبت پہلو کو مدنظر رکھتے ہیں اور میں نہیں خیال کرتا کہ حکومت یا پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ ہے?

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.