5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
پاکستانی حکومت قرض سے نجات کیلئے شاہانہ اخراجات ختم کرے، رپورٹ
جنگ نیوز -
نیویارک …عالمی ریٹنگ ایجنسی میرل لنچ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال پاکستان کی معیشت میں توازن لانے کے لیے مقامی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے طریقہ کار کاحکومت کو از سر نو جائزہ لینا ہوگا جبکہ نئے قرض سے نجات کیلئے شاہانہ حکومتی اخراجات کا خاتمہ بھی ضروری ہے?میرل لنچ کے مطابق حکومت پاکستان کو 703 ارب روپے کے مالی خسارے میں سے521 ارب روپے کا مقامی طور پر ہی انتظام کرنا ہوگا جس میں سے155 ارب روپے مقامی بینکوں کی جانب سے لینے ہوں گے اور366 ارب روپے کا غیر بینکاری نظام سے انتظام کرنا ہوگا? معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں میں ہوشربا اضافہ ہواہے جس کی وجہ سے مہنگائی بھی بے لگام ہوئی لیکن قرضوں کی ادائیگی کے معاملے میں حکومت بے بس نظر آتی ہے اورمرکزی بینک کی جانب سے زیادہ نوٹ چھاپے گئے? میرل لنچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں زیر گردش نوٹوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ نا گزیر ہوجاتا ہے اور یوں مہنگائی میں اضافے کو جواز بنا کر مرکزی بینک نے شرح سود میں بھی کمی نہیں کی? زائد شرح سود سے ملک میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں ماند ہوئیں?معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی ایک بار پھر نئے نوٹ چھاپ کر مہنگائی بڑھانے سے ہوگی تاہم ایک آسان حل یہ ہے کہ نہ حکومت شاہانہ اخراجات کرے، نہ قرضے لینے کی نوبت آئے اور نا ادائیگیوں کے مسائل پیدا ہوں?