5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
18ویں ترمیم کیس،نظام خود کشی کر رہا ہو تو ذمہ دار کون ہوگا، جسٹس رمدے
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے آئین میں 18 ویں ترمیم کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا ہے کہ جب آمریت روکنے کیلئے ججوں کے حلف میں عدلیہ خود ہی تبدیلی کر چکی ہے تو پھر ایسی آئینی ترمیم کیوں کی گئی ? جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے ریمارکس دئیے ہیں کہ جس سسٹم کے لئے قربانی دی گئی وہ نظام خودکشی کررہا ہوتو کون ذمے دار ہوگا?چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں 17 رکنی لارجر بنچ مقدمے کی سماعت کررہا ہے ? درخواست گذار ندیم احمد کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کا آرٹیکل 175 اے عدلیہ اور اس کی آزادی کو تباہ کرنے کا نسخہ ہے ? اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئینی ترامیم پر قومی اسمبلی میں بحث کا رکارڈ کل عدالت میں پیش کردیا جائے گا ? چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ نے خود ہی ججز کے ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کی تاکہ آمرکے اقدام کو تحفظ نہ مل سکے پھر آئین کے آرٹیکل چھ ، دو ، اے میں تبدیلی کیوں کی گئی ،، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس میں کہا کہ قربانی دینے والی عدلیہ کے ہاتھ کاٹ دئے گئے ہیں اور عدلیہ سے کہا جارہا ہے کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی ? حال یہ ہوچکا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوتا ، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ریاست کے ہر ستون کا کام ہے کہ عوامی رائے نافذ کرے،یہ 17 جج بھی اسی عوام کے نمائندہ ہیں ?کیا عوامی نمائندوں نے آئینی ترمیم سے پہلے اس پر غور کیا ?جسٹس طارق پرویز نے پوچھا کہ اگر اسمبلی موجود نہ ہو تو کیا نیا جج مقرر نہیں ہوسکے گا ?فرض کریں کہ جوڈیشل کمیشن کے رکن وزیرقانون پر کریمنل چارج ہو تو پھر کیا ہوگا ? جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آرٹیل 175 اے کے کچھ اچھے حصے بھی ہیں ، اگر 5 ججوں پر مشتمل کمیٹی بنے تو پھر عدلیہ کی آزادی کیسے متاثر ہوگی ? جسٹس آصف سعید نے اکرم شیخ ایڈووکیٹ سے کہا کہ سیاست دانوں کو اچھے یا برے میں تقسیم نہ کریں ، ملک دینے والے قائداعظم سیاست دان تھے اور سیاست دانوں نے ہی 73 کا آئین بھی دیا ? مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی ?