تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43

کئی ملکوں میں عدالتی فیصلے پر نئی قانون سازی کی گئی،جسٹس رمدے

جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین میں18ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کے مقدمہ میں فریقین کے وکلا سے سوال کیا ہے کہ کیا ملک میں کبھی آئینی ترمیم کو عدالت کی طرف سے ختم کیا گیا؟آئین میں18ویں ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں کے مقدمہ کی سپریم کورٹ کے17 رکنی بنچ میں سماعت ہوئی تو سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے ججز تقرری کی ترمیم کیخلاف دلائل جاری رکھے، ایک درخواست گزار عبدالحفیظ پیرزادہ نے درخواست پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ1973 کے آئین کیلئے ماضی کی پارلیمانی بحث کے ریکارڈ دیا جائے ، حامد خان نے دلائل میں کہا کہ ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا تصور جنوبی افریقہ سے لیا گیا جہاں نظام حکومت صدارتی ہے? بنچ کے رکن جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ برطانیہ میں پابندی ہے کہ کوئی پارلیمانی رکن جوڈیشل کمیشن کا ممبر نہیں ہوسکتا ، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں کبھی کسی آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا ؟تو حامد خان نے جواب دیا کہ پاکستان میں صرف آئینی ترامیم کا عدالتی جائزہ لیا جاتا رہا البتہ بھارت میں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، بنچ کے رکن جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان سمیت ہر ملک اور قوم میں ایسا ہوا کہ جب عدالتوں نے کوئی فیصلہ دیا تو پھر آئین میں ترمیم کردی گئی یا نئی قانون سازی ہوگئی?

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.