5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن ججز تقرر کے معاملے کو دیکھنا ہوگا
جنگ نیوز - اسلام آباد…سپریم کورٹ میں اٹھارہویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کااحترام کرتے ہیں لیکن ججزتقرر کا معاملہ بھی دیکھنا ہوگا? انہوں نے سوال کیا کہ گریڈ 17 کے تقررکیلیے تو پبلک سروس کمیشن ہے، ججزتقرراختیارپارلیمنٹ کے ماتحت کرناکیاعدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی ہے؟جسٹس رمدے نے مزید کہا کہ ججزکا تقرر پارلے منٹ کے ماتحت کردیا گیا? قبل ازیں چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین زندہ ہے اور اس کے ہر آرٹیکل پر عمل ہونا چاہیے ، ریفرنڈم کے ذریعے آئینی ترمیم کیلئے عوام کی آراء لی جا سکتی ہیں? اٹھارویں ترمیم کی بعض شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سترہ رکنی فل بینچ کر رہا ہے ? آج سماعت کے موقع پر حامد خان ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل جاری رکھے ?اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا کبھی آئینی ترمیم کے لئے ریفرنڈم ہوا جس پر حامد خان نے نفی میں جواب دیا ? اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم صرف انہی کے لئے ہوتا ہے جو غیر آئینی طریقے سے آئے ہیں ، آئین میں ریفرنڈم صرف جرنیل کے صدر بننے کے لئے نہیں رکھا گیا ?چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی ترامیم کے لئے پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جا سکتا،منتخب ارکان پارلیمنٹ آئین کے تحت ہی کام کرتے ہیں جبکہ 1985 کے انتخابات میں لوگ غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہوئے تھے ?بعد ازاں کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی ہو گئی?