تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43

سپریم کورٹ نے 1985میں ہونیوالی ترمیم کا ریکارڈ طلب کرلیا

جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے مقدمہ میں میثاق جمہوریت کا حوالہ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ، عدالت نے سیکرٹری قومی اسمبلی سے ذوالفقار علی بھٹو اور ضیا الحق دور کی آئینی ترامیم کا پارلیمانی ریکارڈ بھی طلب کرلیا?چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے17رکنی بنچ نے18ویں ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کی ، ججز تقرر کی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے دلائل میں کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترمیم کی رپورٹ میں میثاق جمہوریت کا ذکر کیاہے ? اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ میثاق جمہوریت سیاسی دستاویز ہے جس کا حوالہ دینا بے سود ہے ، عدالت نے مقدمہ کی آئینی حیثیت دیکھنا ہے اسے سیاست میں نا الجھایا جائے ، حامدخان نے دلائل میں کہا کہ آئینی اصلاحات کمیٹی کی مشاورت کو خفیہ رکھا گیا جبکہ پارلیمنٹ نے اس کی رپورٹ کو من و عن قبول کرلیا? اس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ18ویں ترمیم من و عن قبول کرنا پارلیمنٹ کا اپنا معاملہ ہے تاہم اس پر بحث ہونی چاہئے تھی?جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث ہو تو مجوزہ قانون کی خامیاں سامنے آجاتی ہیں ? حامد خان نے کہا کہ انہیں دلائل کے لئے مزید ایک دن دیا جائے ،اس پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت28 جون تک ملتوی کردی جبکہ1985 کی آئینی ترمیم سے قرارداد مقاصد میں تبدیلی کا پارلیمانی ریکارڈ طلب کرلیا ? اس تبدیلی سے اقلیتوں کی مذہبی آزاد کے الفاظ کو ختم کیا گیا تھا ، عدالت نے سیکریٹری قومی اسمبلی سے1972 اور1973 کے عبوری آئینی بل کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے?

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.