5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
این آر او عمل درآمد کیس: قائم مقام سیکرٹری قانون کی سپریم کورٹ طلبی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے کالعدم ، قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق دو مقدمات کی آج سماعت کی ، عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ وزارت قانون این آر اوفیصلے پر رائے نہ دے بلکہ حکومت عمل درآمد کے اقدام کرے?وفاقی کی طرف سے این آر او فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کے مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سترہ رکنی بنچ نے کی ، عدالت نے اس مقدمہ میں کمال اظفر کی جگہ مسعود چشتی کو وفاق کا وکیل بنانے کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کردی جبکہ عدالت میں موجود وفاق کے وکیل کمال اظفر نے کہا کہ وہ ملک سے باہر رہے ہیں اور مزید مشاورت کیلئے انہیں وقت دیا جائے ? چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک موقع پر ریمارکس میں کہا کہ نظرثانی کی اپیل زائد المیعاد ہوچکی ہے ، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وفاق کی لاپرواہی کی انتہا ہے کہ اسے علم ہی نہیں کہ مقدمہ میں کرنا کیا ہے، اس عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت28 جون تک ملتوی کردی?جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک اور پانچ رکنی بنچ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کی ، اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے جامع جواب پیش کیا اور بتایا کہ وزیراعظم نے این آر او فیصلے پر وزارت قانون کا موقف جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے، اس پر جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ وزارت قانون رائے نہیں دیتی صرف عدالتی حکم پر عمل کرتی ہے ، جسٹس راجا فیاض نے کہا کہ آرٹیکل 190کے تحت وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ عدالتی حکم پر عمل کرائیں ? انہوں نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کا تماشا بنادیا گیا ہے اور تمسخر اڑایا جارہا ہے، عدالت یہ کب تک براشت کرے ? سپریم کورٹ نے قائم مقام سیکریٹری قانون کو این آر او فیصلے پر وزارت کی سمری سمیت کل طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی?