5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
پنجاب بینک اسکینڈل: حکومت کا طارق کھوسہ سے تحقیقات کرانے سے انکار
جنگ نیوز -
اسلام آباد…حکومت نے بینک آف پنجاب کے قرض اسکینڈل کی تحقیقاتی سپریم کورٹ کے حکم پر سیکریٹری انسداد منشیات طارق کھوسہ کو دینے سے معذرت کر لی ہے ، عدالت نے نیا تحقیقاتی افسر مقرر کرنے کیلئے چار رکنی کمیٹی قائم کردی ہے ، چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس میں کہا ہے کہ سسٹم کو کچھ نہیں ہوگا?چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بینک آف پنجاب کے قرض اسکینڈل کیس کی سماعت کی، عدالت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا خط پیش کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ طارق کھوسہ ابھی انسداد منشیات وزارت میں اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے اور وہ اس قرض فراڈ کیس کی تحقیقات کیلئے دستیاب نہیں ، اس خط میں تحقیقاتی افسر کیلئے تین نام تجویز کئے گئے ہیں، ان میں سی سی پی او کراچی وسیم احمد، ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ فیاض احمد اور ایڈیشنل آئی جی فنانس لاہور آفتاب سلطان شامل ہیں? چیف جسٹس نے ایک موقع پر ریمارکس میں کہا کہ عدلیہ کا حکومت سے جھگڑے کا تاثر ختم ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ہرشخص یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے لیکن یقین رکھیں یہ سسٹم چلے گا، جسٹس غلام ربانی نے کہا کہ یہ دھرتی ہماری ماں ہے، اچھے لوگوں کو کام کرنے دینا چاہئے ، عدالت نے نئے تحقیقاتی افسر کا نام تجویز کرنے کیلئے چیئر مین نیب ، اٹارنی جنرل، چیئرمین نیب اور ڈپٹی پراسکیوٹرجنرل نیب کے ساتھ طارق کھوسہ پر مشتمل کمیٹی بنادی ، مقدمہ کی مزید سماعت16جون تک ملتوی کردی گئی?