5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی: حکومت کو سالانہ 30ارب روپے کا نقصان
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ایک طاقتور وفاقی وزیر کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنائی گئی ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی کی وجہ سے حکومت کو سالانہ تیس ارب روپے سالانہ کی آمدن کا نقصان ہورہا ہے?ایک رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کا یہ نقصان ٹیکسز سے بچنے کیلئے بین الاقوامی ٹیلیفون کالز کو مقامی غیر قانونی ایکس چینجز کے ذریعے ری راؤٹ کرنے کے نظام گرے ٹیلیفونی کی مد میں پہنچ رہا ہے? پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اس گرے ٹریفک کی حوصلہ شکنی کیلئے بین الاقوامی کالز کے منظور شدہ سیٹلمنٹ ریٹس کم کرتی رہی ہے? مگر موجودہ پیپلز پارٹی حکومت کے آنے کے بعد پی ٹی اے نے یہ ریٹ بڑھادیے? پی ٹی اے تسلیم کرتی ہے کہ ریٹ بڑھنے کا غلط فائدہ کچھ آپریٹرز نے اٹھایا ہے? مگر گرے ٹریفک کا حجم کتنا ہے اور اس سے کتنا نقصان پہنچ رہا ہے? اس کے کوئی اعداد و شمار نہیں دیے? اس گرے ٹریفک کا سب سے زیادہ جس کو پہنچا ہے ان میں راڈکام یورپ بھی شامل ہے، جس کا نام بدل کر ہولی ویل سلوشنز رکھا جارہا ہے? رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک راڈکام یورپ کے چیئرمین ہیں? لندن میں قائم یہ وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کمپنی 2001میں قائم ہوئی? پاکستان کیلئے اس طرح کی کمپنیوں کو دو ہزار تین میں لائسنس جاری کیے گئے اور شفافیت کی کمی کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ آیا راڈکام کی سرگرمیاں قانونی ہیں یا نہیں،رحمان ملک کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ناکامی ہوئی?