5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
امن کیلئے افغان حکومت کی ہر کوشش کی حمایت کرینگے، پاکستان
جنگ نیوز -
ملتان . . . وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دہشت گردی علاقائی اور عالمی مسئلہ ہے ، پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کی بجائے مل بیٹھ کر حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ یہ بات انہوں نے ملتان ائیر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کہی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ 15 جولائی کو پاکستان آ رہے ہیں ان سے کشمیر اور پانی سمیت تمام اہم معاملات پر بات ہو گی ۔ ہماری کوشش ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے تاریخی اور اصولی موقف کے مطابق حل ہو ، اسی طرح پانی کے معاملہ پر بھی ہمارے پاس ایک لائحہ عمل ہے جس پر ہم بات کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کو اپنے حصہ کے پانی سے محروم کیا گیا تو ہم خاموش نہیں رہیں کے اور مذاکرات کے بعد عالمی ثالثی کا راستہ اختیار کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت تک پاکستان اور ایران کے گیس معاہدہ کی وہی حیثیت ہے جو دو ملکوں کے درمیان معاہدہ کی ہوتی ہے ۔ پاکستان وضاحت کر چکا ہے کہ اسے توانائی کے مسائل کاسامنا ہے ۔ اگر ایران پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے لگائے جانے والی پابندی کی تفصیل سامنے آئے گی تو اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاک چین معاہدہ کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین اور پاکستان اس کی پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں اور اب کینیڈا میں چین نے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھا ہے جس کے بعد اس کو زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں ۔ افغانی صدر کرزئی اور حقانی گروپ میں مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے بارے میں امریکی سی آئی اے کے عہدیدار کے بیان پر انہوں نے کہ اس پر پاکستان کا دو ٹوک موقف سامنے آچکا ہے ، افغانستان نے بھی تردید کر دی ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی کہ چکے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔