5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
بھارت سے غیر قانونی مرچ کی آمد سے مقامی صنعت بے روز گار
جنگ نیوز -
میرپور خاص . . . بھارت سے بڑے پیمانے پر قانونی اور غیر قانونی طور پر آنے والی غیر معیاری مرچ نے مقامی کاشتکار اور تاجر کا ہی نہیں بلکہ اس صنعت سے وابستہ دیگرہزاروں افراد کا روزگار چھین لیا ہے۔ بھارت سے صنم نامی سرخ مرچ کی درآمد نے اندرون سندھ کی مصروف ترین کنُری مرچ منڈی کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ ذائقے اور بہترین کوالٹی کے باوجود مقامی ڈنڈی کٹ مرچ کا کاروبار اور قیمت دونوں میں تیزی سے کمی ہورہی ہے ۔ بھارت سے درآمدہ صنم مرچ مقامی ڈنڈی کٹ مرچ کی مقابلے میں پندرہ سو روپے فی من سستی ہے۔ جس کے باعث غیر معیاری ہونے کے باوجود تاجر اسے فوقیت دے رہے ہیں۔ صرف گزشتہ چند روز کے دوران مقامی مرچ کی قیمت سات سو روپے فی من کمی کے ساتھ 54 سو روپے فی من تک نیچے آگئی ہے۔ تاجروں کا کاروبار تباہ ہورہا ہے جبکہ کاشتکار نے مایوس ہوکر اس مرتبہ مرچ کی کاشت بھی پچاس فی صد تک کم کی ہے۔ بھارت سے درآمدہ مرچ نے مقامی تاجر اور کاشتکار کا روزگاریکساں طور پر خطرے میں ڈال دیا ہے۔