5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
حکومتی گروہ نے اداروں کے تصادم کی مہم شروع کر دی، امان اللہ کنرانی
جنگ نیوز -
کوئٹہ . . . سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے نائب صدر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ حکومت کے ایک گروہ نے فرد واحد کے مفادات کے تحفظ کیلئے آئینی اداروں کو باہم متصادم کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے ۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں کہی انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے عدلیہ کے خلاف زہر افشانی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ جس کی تازہ مثال حکومت کی جانب سے شائع کردہ دو سالہ کارکردگی کی رپورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلی عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات کو غیر ضروری طور پر پیش کیا جانا ہے۔جبکہ اس رپورٹ میں صدر مملکت، وزیر اعظم اور وزرا کی تنخواہوں اور مراعات کا ذ کر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری آج جس مقام پر فائز ہیں وہ دنیا میں نیلسن منڈیلا کے سوا کسی کے حصے میں نہیں آیا۔انہوں نے کہا محترمہ بے نظیر بھٹوکے خون کی مرحون منت حکومت میں آنے والے حکمران چیف جسٹس اور جج صاحبان کو تنخواہ کے ترازو میں تول کردانستہ عدلیہ کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی اشاعت پر ہم بھر پور احتجاج کرتے ہی۔انہوں نے کہا کہ این آر او کے تحت مقدمات کے واپسی لینے کا عمل پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی عزت وتوقیر کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کووزارت کے دوسال کے باوجود بلوچستان کے حالات کی نزاکت کا احساس نہیں ہوا۔