5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
چین سے درآمد شدہ اسکینرز سے چیکنگ معمہ بن گئی
جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کیلئے چین سے درآمد کردہ ایکسپلوسو اسیکنرز سے انسان کو چالیس میٹر دور رکھ کر صرف خالی گاڑی کی چیکنگ ہونی چاہیے۔چینی اسیکنرز سے انسانوں پر تابکاری اثرات جانچنے کے لئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ ذیلی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کرنے کیلئے چین سے درآمدہ اسکینرز کی تفصیلات طلب کیں تو وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ کل چار بڑے اسیکنرز منگوائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے دو اسیکنرز آچکے ہیں اور تمام اسیکنرز اسلام آباد کے چار داخلی مقامات پر نصب کئے جائیں گے۔ نیوکلئر ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسکینرز کو پاکستان میں آپریٹ کرنے کے لئے 28 جولائی تک عبوری اجازت دی گئی ہے ۔ ان اسکینرز کی دیکھ بھال ایک سال تک چین نے اور بعد میں پاکستانی حکام نے کرنا ہے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ ایکسپلوسو اسکینرز سے صرف خالی گاڑی کی چیکنگ ہونی چاہیے اور تابکاری سے بچنے کیلئے انسان کو اس سے کم از کم چالیس میٹر دور رکھنا ہو گا۔