5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ اور اسلحہ خانے کا اہم حصہ ہیں،مولن
جنگ نیوز -
واشنگٹن . . . امریکا نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نیوکلیر ڈیٹیرنس پاکستان کی ضرورت ہے اور اس کا ایٹمی پروگرام ایران اور شمالی کوریا سے مختلف ہے۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے کولوریڈو میں ایک عوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس موجود ہتھیاروں کے ذخیرے میں ایٹمی ہتھیار سب سے زیادہ اہم ہیں اور پاکستانی قیادت بھی اس بات کو سمجھتی ہے اور اس نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے غیرمعمولی کوششیں اور اقدامات بھی کیے ہیں۔امریکی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار پاکستان کے تاج میں جڑے نگینے ہیں۔ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے برعکس ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارت سے درپیش خطرے سے مزاحمت کے مقصد سے شرع کیا گیا تھا اور پاکستانی اسے اپنی قومی سلامتی کا اہم جز تصور کرتے ہیں۔انھوں نے پاکستان کے ساتھ 1990کی دہائی میں منقطع کیے جانے والے فوجی تعلقات بحال کرنے کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے یہ ایک اہم اقدام تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نیو زی لینڈ میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اجلاس میں توقعات کے برعکس امریکا نے چین کی جانب سے پاکستان کو دو نئے ایٹمی ری ایکٹرز کی فراہمی پر اعتراض بھی نہیں کیا تھا۔