5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
لاہور، داتا دربار خود کش دھماکوں میں شہداء کی تعداد 42 ہو گئی
جنگ نیوز -
لاہور… داتا دربار میں دو خود کش دھماکوں میں شہید ہونیوالوں کی تعداد 42ہو گئی،جب کہ 175 افراد زخمی ہیں۔اسپتال ذرائع کے مطابقلاہورمیں داتا دربارپر خود کش حملوں کے42شہدا کی میتیں مختلف اسپتالوں کے مردہ خانوں میں بھجوا دی گئی ہیں،جبکہ 175زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔میواسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر زاہد پرویزکے مطابق میواسپتال میں36 ڈیڈ باڈیزاور114زخمی لائے گئے،ان میں سے15 زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ڈاکٹر زاہد پرویز کے مطابق شہری انتہائی صبراور تحمل کے ساتھ اپنے پیاروں کو شناخت کر رہے ہیں۔اسپتال میں مریضوں کی لسٹ آویزاں کردی گئی ہے۔ورثا 4 میتیں شناخت کرکے لے جا چکے ہیں،جبکہ باقی بھی شناخت کے بعد ورثاکے حوالے کر دی جائیں گی۔گنگارام اسپتال میں27زخمی لائے گئے تھے،جن میں سے 4شہید ہو گئے۔شہید ہونے والوں میں سے دو کی شناخت الیاس ولد رشید احمد اور شیخ فواد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ میاں منشی اسپتال میں11،سروسزمیں10اور جنرل اسپتال میں9زخمی لائے گئے۔کئی معمولی زخمیوں کو مرہم پٹی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔دوسری طرف خود کش دھماکوں کا مقدمہ تھانا لوئر مال میں درج کرلیاگیا۔ اسپیشل برانچ کا کہنا ہے کہ حکومت کو داتا دربار پر حملے کی رپورٹ 24جون کو بھجوا دی تھی اور یکم جولائی کو بھی لاہور کے بڑے درباروں میں خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ خود کش حملوں کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہورسمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ لاہورکے خارجی اور داخلی راستوں پر گاڑیوں اور آنے جانے والوں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے جب کہ شہر میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔داتا دربار پر خود کش حملوں کے بعد دربار بی بی پاک دامن کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ اہم مزارات پر سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں۔اسپیشل برانچ کے ذرائع کے مطابق چوبیس جون کو داتا دربار پر حملے کے حوالے سے ایک رپورٹ حکومت اوردربارا نتظامیہ کو بھجوائی گئی تھی،جبکہ یکم جولائی جمعرات کو بھجوائی گئی رپورٹ میں بھی اسپیشل برانچ کی طرف سے رپورٹ میں لاہورکے بڑے درباروں میں خطرے کے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔دریں اثناء کمشنر لاہور خسرو پرویز کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں کے سر اور جسم کے دیگر حصے مل گئے ہیں۔