5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
وزیر داخلہ کی زیر صدارت علما ء کا اجلاس، سازشوں کو ناکام بنانے کا عزم
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ملک بھر سے مختلف مکاتب فکر کے علما نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کے بعد دہشت گردی کی خلاف مذمتی قرارداد منظورکی ہے رحمان ملک کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف نئے قانون لا رہے ہیں اور وفاقی حکومت پنجاب سمیت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے ۔وزارت داخلہ اسلام آباد میں مختلف مکاتب فکر کے 27 علماکرام نے وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کی۔بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ داتا کی نگری پر حملہ اسلام اور ہماری انا پر حملہ ہے، تیسری قوت پاکستان میں فرقہ وارانہ اور دہشت گرد کارروائیاں کروانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے قوم متفق ہے۔علما نے خود کش حملوں کے حرام ہونے کا متفقہ فتویٰ دیا ہوا ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اورنفرت پھیلانے کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر،وزیراعظم ،شہبازشریف،نوازشریف سب چاہتے ہیں کہ دہشت گردی نہ ہو، وہ دہشت گردی کے مسئلے پر جہاں شہباز شریف چاہتے ہوں ملنے کو تیار ہیں ۔علما نے اس موقع پر متفقہ مذمتی قرارداد بھی پیش کی جس میں داتادربار پر خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی خاتمے کیلیے موثر اقدامات کرے اوردہشت گرد اور انتہاپسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے علما نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف تمام مکاتب فکر متحد ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھرمیں امن واک کی جائے گی اور علما ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے حکومت کو تجاویز پیش کریں گے ۔