5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
خیبر پختونخواہ،پولیو کیخلاف مہم کے باوجود20کیسز سامنے آگئے
جنگ نیوز -
پشاور . . . پشاور سمیت صوبے بھر میں ہر ماہ پولیو ویکسی نیشن کی جاتی ہے تاکہ بچوں کو پولیو سے بچایا جا سکے لیکن اس کے باوجود رواں سال اب تک خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں بیس بچوں میں پولیو وائرس کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیو کے مرض پر قابو پانے کے لئے حکومت کی جانب سے ہر تین ماہ بعد انسداد پولیو مہم شروع کی جاتی تھی جسے بعد میں ماہانہ بنیادوں پر شروع کر دیا گیاہے۔اس مہم کے دوران ملک بھر میں پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتی ہیں ۔خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقوں میں بھی باقاعدگی کے ساتھ اس مہم کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی بچوں میں پولیو وائرس کے انکشاف نے طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رواں سال کے دوران پاکستان میں 28 پولیو کیسز سامنے آئے ۔ان میں خیبر پختون خوا میں سات اور قبائلی علاقوں میں 13 پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔۔ڈائریکٹر ہیلتھ فاٹا کے مطابق قبائلی علاقوں میں پولیو وائرس کی وجہ پولیو ٹیموں کی بچوں تک عدم رسائی ہے۔ رواں ماہ ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران افغان مہاجر کیمپوں اور فاٹا سمیت خیبر پختون خوا میں 59 لاکھ 58 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ پشاور میں 7 لاکھ 56 ہزار بچوں کو حفاظتی قطرے پلا ئے جا ئیں گے۔