5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے نئے ناموں پر پابندی
جنگ نیوز -
لاہور…حکومت پنجاب نے نام تبدیل کرکے کام کرنیوالی کالعدم تنظیموں کے نئے ناموں پر بھی پابندی عائد کردی ہے اور کالعدم قرار دی جانے والی 23 تنظیموں کے 1690 عہدیداروں اور کارکنوں کو شیڈول فورتھ میں شامل کرکے ان پر کڑی نگاہ رکھنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔محکمہ داخلہ کے ذرائعکے مطابق جماعت الدعوة پر دیگر کالعدم جماعتوں کی طرح پابندی عائد نہیں کی صرف اقوام متحدہ کی قراردادکی روشنی میں جماعت الدعوة،الاخترٹرسٹ اورالرشید ٹرسٹ کے بارے میں تین طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں ۔حافظ سعید سمیت تین عہدیداروں کے بیرون ملک جانے اسلحہ لائسنس کے اجراء پرپابندی اوراکاؤنٹس منجمد کیے ۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے جن کالعدم تنظیموں کے نئے ناموں سے کام کرنے پر پابندی عائد کی ہے وہ نام پہلے ہی سے کالعدم ہیں ۔دوہزار دو میں صدر مشرف نے سپاہ صحابہ ،جیش محمد،لشکر طیبہ ،تحریک جعفریہ ،حرکت الجہاد اسلامی ،حرکت المجاہدین ،حزب التحریر ،لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور سنی تحریک کو کڑی نگرانی میں رکھا گیا تھا ۔تاہم دو ماہ کے عرصے میں یہ جماعتیں نئے ناموں سے متحرک ہو گئیں ۔سپاہ صحابہ نے اپنا نام ملت اسلامیہ پاکستان ،جیش محمد نے الفرقان اور خدام السلام ،لشکر طیبہ نے جماعة الدعوة اور تحریک جعفریہ نے اسلامی تحریک رکھ دیا تاہم حرکت المجاہدین اور حرکت الجہاد اسلامی خاموش ہو گئے تھے۔2007 میں لال مسجد آپریشن کے بعد ان جماعتوں کے کئی تربیت یافتہ ارکان وانا وزیر ستان چلے گئے اور تحرک طالبان میں شامل ہو گئے ۔ان گروپوں کو پنجابی طالبان کہا جاتا ہے ۔لشکرجھنگوی اور سپاہ محمد کئی دھڑوں میں بٹ گئے جبکہ حزب التحریر نے اپنا نام تبدیل کیے بغیر اپنا کام جاری رکھا ۔مشرف حکومت نے ایک بار پھر نئے ناموں پر بھی پابندی عائد کردی جس کے بعد ملت اسلامیہ نے اپنا نیا نام اہلسنت والجماعت رکھا تاہم اسلامی تحریک ،حزب التحریر ،خدام اسلام ،لشکر جھنگوی،سپاہ محمد نے اپنے نام تبدیل کئے بغیر کام جاری رکھا اور آج تک وہ انہی ناموں سے سرگرم ہیں ۔ان جماعتوں کے رہ نما انتخابات لڑتے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابات میں تعاون کرتے ہیں ۔