تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

امن کی آشا : اچھے نتائج برآمد ہوں گے،مذاکرات جاری رہنے چاہئیں،مانی شنکر آئیر

جنگ نیوز -
کراچی … شکیل یامین کانگا…دلوں کو صاف کرکے ڈائیلاگ کا سلسلہ بدستور جاری رکھنا ہوگا، پندرہ سال سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات صرف اور صرف بات چیت کے ذریعے ہی ہوسکتے ہیں، دونوں ملکوں کے مذاکرات واہگا باڈر پر ہونے چاہئیں دہلی یا اسلام آباد میں نہیں، دہشت گرد کو کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود آتا ہے ملک کا امن تباہ کر دیتا ہے، معصوم انسان ویزہ لیکر آتا ہے اور اپنے پیاروں سے مل کر چلا جاتا ہے، امن کی آشا کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے، کھیل انسانوں کو قریب لاتے ہیں اس لئے ان کا ہونا ضروری ہے، دونوں ممالک کے پروگرامز دیکھنے کیلئے ٹیلی ویژن پر پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار بھارت کے ممبر پارلیمنٹ اور سابق سفارتکارمانی شنکر آئر نے کراچی ایئرپورٹ پر جنگ سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق رکن قومی اسمبلی سید خادم علی شاہ بھی موجود تھے۔ مانی شنکر آئر پیر کی شام دہلی سے کراچی پہنچے اور دوسری فلائٹ کے ذریعے اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں سے وہ ایبٹ آباد میں ہونے والے عمر اصغر خان سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مانی شنکر نے بتایا کہ میں اس سال چوتھی بار پاکستان آیا ہوا اور اپنی پوری زندگی میں تیس بار پاکستان آچکا ہوں۔ 78 سے 82 تک کراچی میں بھارت کا قونصل جنرل بھی رہ چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حکومتوں کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فارن سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات ہوئے ، سب سے پہلے دلوں کو صاف رکھ کر مسلسل ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے،اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئی مثبت نتیجہ نکل آئے گا، ہر ڈاھی والا دہشت گرد نہیں ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان 53 سال سے مذاکرات ہورہے ہیں ان کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی، امریکا اور ویتنام کے درمیان بات چیت ہوسکتی ہے تو پاکستان اور بھارت کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہے، صرف منسٹر لیول کے کسی کام کی نہیں بلکہ ہر سبجیکٹ پر کھل کر بات کی جائے تو جو نتیجہ 63 سالوں میں نہیں نکلا امید ہے ایک دو سال میں نکل آئے۔ امن کی آشا ایک اچھا موضوع ہے، بھارتی اور پاکستانی اخبار نے دونوں ملکوں کو قریب لانے کیلئے ایک اچھا سلسلہ جاری کیا ہے اس جاری رہنا چاہئے۔ دونوں ملکوں ذمہ داروں کو اپنا رویہ تبدیل ہونا ہوگا، دہشت گرد کا کوئی مذہب یا اسے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنا کام کرکے نکل جاتا ہے لیکن معصوم شہری جو اپنے عزیزوں سے ملنا اور ایک دوسرے ملک کو دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس سے محروم ہوجاتے ہیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر جیو ٹی وی دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے کمپیئر اور پروگرام میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آرہا، ایسا ہی لگ رہا ہے جیسے بھارت میں ہوں۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات پر پابندی نہیں ہونا چاہئے۔ کھیلوں سے لوگ قریب آتے ہیں اس سلسلے کو دوبارہ جاری کرنا ہوگا اور دونوں ملکوں کو قسم کے کھیلوں میں حصہ لینا ہوگا۔








متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.