5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
ہاکس بے سے مردہ وہیل مچھلی کو اب تک ٹھکانے نہیں لگا یا جاسکا
جنگ نیوز -
کراچی ... کراچی میں ہاکس بے کے ساحل پر ایک روز قبل مردہ پائی جانے والی مچھلی کو اب تک ٹھکانے نہیں لگایا گیا۔سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے عملے نے ابھی تک وہاں جا کر مچھلی کو دیکھنے اور اسے محفوظ طریقے سے ہٹانے کی زحمت نہیں کی ہے۔ذرائع نے جیو نیوز کوبتایا کہ ہاکس بے کے ساحل پر مردہ پائی جانے والی مچھلی کو اب تک ٹھکانے نہیں لگایا گیا جس کی وجہ سے تعفن پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک روز گزرنے کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف سندھ کا کوئی ماہر یا افسر مچھلی کو دیکھنے نہیں آیا۔البتہ عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین نے ہاکس بے کا دورہ کر کے مردہ مچھلی کا جائزہ لیا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہر بابر حسین نے جیو نیوز کو ٹیلے فون پر بتایا کہ یہ بڑی مچھلیوں کی ایک نایاب قسم ہے جسے وہیل شارک کہا جاتاہے،جو20 فٹ لمبی اور 300 کلو وزنی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہر بابر حسین نے بتایا کہ مچھلی کی اس قسم کے شکار پر عالمی سطح پر پابندی ہے اور پاکستان نے بھی اس کنونشن پر 1976 میں دستخط کیے ہیں۔ مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مچھلی ماہی گیروں کے مخصوص جال میں پھنس کر مری ہے۔عموماً اس سیزن میں مچھلیوں کے شکار پر پابندی ہوتی ہے جس کی وجہ سے مقامی ماہی گیر اندھی ماگر نامی ایک اور مچھلی کے شکار کے لیے ایسے جال پھینکتے ہیں جس میں پھنس کر یہ مری ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی ماہی گیر اس وہیل شارک مچھلی کی کلیجی سے تیل نکال کر اسے کشتیوں کو لگا دیتے ہیں جس سے وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہتی ہیں۔