تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

جنرل مشرف اقتدار میں رہتے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا،رام ملانی

جنگ نیوز -
ہوسٹن .... راجہ زاہد اختر خانزادہ ... سپریم کورٹ بارانڈیا کے صدر،انڈین کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور رکن راجیہ سبھا رام جیت ملانی نے کہا ہے کہ اگر جنرل مشرف اقتدار میں رہتے تو کشمیر کا مسئلہ کبھی کا حل ہو چکا ہوتا۔ عدلیہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے آئین کو تبدیل کرے۔ وہ یہاں امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا کے کنونشن میں شرکت کے بعد جنگ اور جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کامسئلہ تو عملی طور پر مشرف حل کر چکے تھے ،تاہم جونہی سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور مشرف کمزور ہوئے تو اس مسئلہ پر پیش رفت رک گئی۔ اس طرح اگر مشرف کمزور نہ ہوتے تو کشمیر کا مسئلہ کبھی کا حل ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اب خفیہ نہیں رہی کہ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں دستاویز بھیجی تھیں اور میں نے بحیثیت چیرمین کشمیر کمیٹی اُس پر کام کیا میں نے ان تجاویز کا مطالعہ کیا اور اس میں کچھ معمولی تبدیلیاں کر کے ان کو عوامی نمائندوں کے سامنے رکھا تاہم جنرل مشرف اُس وقت تک اندرونی مسائل میں گرچکے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی یہ ڈپلومیسی ہے کہ اگر جب بھی مخالفین کو وہ کمزور ہوتا دیکھتا ہے تو بات چیت کے دروازے بند کر دیتا ہے تاہم میری نظر میں وہی وقت ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی سودا کیا جائے۔ تاہم میں ناامید نہیں اور سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ حل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان کے حکمرانوں کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کو نوجوان بھائی کی طرح ٹریٹ کریں اور وہاں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جب بھی مذاکرات اور بات چیت چلتی ہے اس وقت کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ رونما ہو جاتا ہے کہ پھر مذاکرات بند ہو جاتے ہیں ۔اس صورتحال کے پیدا کرنے میں وہ لوگ ملوث ہیں جن کے مالی فوائد ہیں کیوں کہ وہ ان اختلافات کا فائدہ لے کر ڈھیر ساری دولت اکٹھا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران اور عوام چین کو دوست نہ سمجھیں چین دونوں کا دشمن ہے اور یہ دونوں کو کھا جائیگا۔ انہوں نے پاکستان میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان اختلافات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عدلیہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ پارلیمنٹ سے پاس شدہ قوانین یا آئین کو تبدیل کرے یہ اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اداروں کے اختیارات اور دیگر مسائل جمہوریت میں چلتے رہتے ہیں مگر میری نظر میں یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کا مسئلہ دونوں ممالک کا مسئلہ ہے اس پر توجہ دی جائے اور یہ مسئلہ دفاع پر لگائی گئی رقم بچا کر حل کیا جا سکتا ہے لہٰذا یہ اخراجات بند ہوں کیونکہ جنگ کسی صورت اچھی نہیں وہ دونوں طرف تباہی لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن، امن اور صرف امن ہی مسئلہ کا حل ہے۔ اس موقع پر سنا کے رہنما عزیز ناریجواور سکندر بلوچ بھی موجودتھے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.