5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
عطا آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام،متاثرین کیمپ خالی کرنے لگے
جنگ نیوز -
ہنزہ…ہنزہ کے التت کیمپ میں موجود آئی ڈی پیز نے حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیمپوں کو خالی کرنا شروع کردیا ہے اور متاثرین عطا آباد جھیل کی جانب لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ہنزہ کے التت کیمپ میں موجود عطاآباد اور سرٹ کے آئی ڈی پیز کی جانب سے حکومتی ریلیف پیکیج کو مسترد کئے جانے کے بعد کیمپوں میں موجود 1200 متاثرین میں سے ابتدائی طور پانچ سو کے قریب افراد نے عطااباد جھیل کی جانب لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔ ان افراد میں بڑی تعداد مین نوجوان شامل ہیں۔جبکہ عطاآباد جھیل پہنچنے کے بعد مظاہرین کے رہنماؤں کی جانب سے لانگ مارچ کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جس کے تحت دوسرے مرحلے میں التت کے آئی ڈی پیز کیمپ میں موجود خواتین ، بچے اور بوڑھے بھی کیمپ کو خالی کر کے عطاآباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ لانگ مارچ کرنے والے آئی ڈی پیز کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے علاوہ گلگت بلتستان کے گورنز اور وزیر اعلیٰ سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے بارہا اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود عطاآباد اور سرٹ کے متاثرین کی آبادکاری اور بحالی کے لئے کچھ نہین کیا گیا۔ فی گھرانہ چھ لاکھ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیاگیا تھا جو ہمیں ہر گز قبول نہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے اس رویے کے بعد ہم اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنے تباہ شدہ علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی نمائندہ ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ جبکہ پولیس کے صرف پانچ جوان مظاہرین کے ساتھ موجود ہیں۔ادھر عطاآباد جھیل میں پانی کی آمد تقریبا 14100کیوسک اور اخراج 13470کیوسک ہے۔