5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
حکومت خود عدالت عظمیٰ بننے کی کوشش نہ کرے،نواز شریف
جنگ نیوز -
لاہور…نوازشریف کا کہنا ہے کہ حکومت کے اقدمات جمہوریت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں اور یہ کہ جو ہو رہا ہے پاکستان کے اداروں اور عدلیہ کے ساتھ سنگین مذاق ہے، حکومت عدالت کا احترام کرے خود عدالت عظمیٰ بننے کی کوشش نہ کرے۔مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے آج لندن روانگی سے قبل لاہور ائرپورٹ کے حج ٹرمینل پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری معاشرے میں نیب جیسے خط نہیں لکھے جاتے،حکومت کو عدالت کو ماننا چاہیے اور یہ کہ حکومت کوخود عدالت بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طوفان نے عدلیہ کو بحال کرنے کا کردار ادا کیا تھا۔عدالتیں جو کام کررہی ہیں ان کی سپورٹ کی جانی چاہیے۔عدالتوں کو ہر طریقے سے متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم عدالتوں کو متنازع بنانے کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور یہ پوری مہم ہے جو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ میں نیب کے ادارے کو اچھا ادارہ نہیں سمجھتا۔نیب کا ادارہ مشرف مخالف سیاست دانوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا وزیراعظم گیلانی سے بھی پانی کے معاملے پر بات ہوچکی ہے اور این ایف سی کی طرح اس معاملے کوبھی حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پانی کی تقسیم پر بھرپور تعاون کے لیے سندھ کے ساتھ ہیں تاہم صوبوں کے پانی کے حق پرسیاست نہیں ہونی چاہیے۔قومی کانفرنس کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پلاننگ کے بغیر قومی کانفرنس کا فائدہ نہیں ہوگا صرف تقریریں ہوں گی۔حکمت عملی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سب مل کر بیٹھیں ،پارلیمانی کمیٹی کو بٹھا کر مشاورت کریں اور مشاورت کے بعد قومی کانفرنس منعقد کی جائے جس میں فیصلے کرکے اٹھا جائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ قومی کانفرنس سے قبل کافی ہوم ورک کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کے حوالے سے ایک دیگر سوال کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم بلیم گیم میں نہیں پڑنا چاہتے،کوئی ایک جماعت اکیلے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ داتا دربا دھماکوں کے بعد شہبازشریف کے استعفے کی بات کی گئی تا ہم میریٹ ہوٹل دھماکے کے بعد کیاہم نے کہا کہ وفاقی حکومت ناکام ہوچکی ہے اور حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہیے، کیا ہم نے کبھی ملک میں اسطرح کے واقعات پر سیاست بازی کی،کراچی میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے کیا ہم نے کچھ کہا، مگر لاہور میں دھماکوں کے بارے میں بغداد وغیرہ کی بات کی گئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی یک جہتی کے لیے وزیراعظم نے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ سیف الرحمان کے احتساب کمیشن کا نیب کیساتھ موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔کرپٹ لوگ 90 روز کے لیے وزیراعظم بھی بنے ،وزیراعلیٰ پنجاب بھی بنے۔ پنجاب بینک میں 40سے 50ارب کی کرپشن کی گئی اور پنجاب بینک میں جتنی رقم لوٹی گئی وہ کیری لوگر بل کا آدھا ہے۔انہوں نے کہا حکومت کی صفوں میں گھسے خود کش بم باروں کو نکالنا چاہیے، خود کو ٹھیک کریں تو کسی کو سازش کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔