5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
18ویں ترمیم کے بعدجمشید دستی سمیت 7ارکان کی رکنیت پھر خطرے میں
جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں پر کرائے گئے ضمنی انتخابات اٹھارہویں ترمیم کے مطابق نہیں۔ عدالت میں چیلنج کیے جانے پر ان انتخابات کو عدلیہ کالعدم قرار دے سکتی ہے،جس کے بعد ضمنی انتخابات کے نتیجے میں جیتنے والے جمشید دستی سمیت سات اراکین اسمبلی کی رکنیت پھر خطرے میں پڑگئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آرٹیکل219 کے مطابق الیکشن کمیشن میں شامل چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے ریٹائرڈ ججز اپنی مدت پوری کرچکے ہیں اور اس بارے میں الیکشن کمیشن وزارت قانون کو تحریری طور پر آگاہ کرچکا ہے ۔ اٹھارہویں ترمیم کے مطابق کمیشن کے چاروں نئے ارکان کی تقرری وزیراعظم کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے مشورے سے کرنا ہے، تاہم وزیراعظم گیلانی اور چوہدری نثار کے درمیان ابھی تک کمیشن کے ارکان کے ناموں پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے ۔اس صورتحال میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس حامد علی مرزا نے سات نشستوں پر ضمنی انتخابات کمیشن ارکان کی عدم موجودگی میں ہی کرادیے ہیں ،جبکہ آئندہ دو ماہ میں مزید8 نشستوں پر ضمنی انتخاب ہونا ہیں ۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق حکومت کو کمیشن ارکان کی جلد تعیناتی کا کہا ہے۔