5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
گلگت میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی شروع
جنگ نیوز -
مظفرآباد/گلگت …کشمیر میں منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جبکہ گلگت میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں اور سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیاہے ۔ڈپٹی کمشنرمیر پور آزاد کشمیر چوہدری محمد طیب کے مطابق منگلاڈیم میں پانی کی سطح1206فٹ سے بلند ہوگئی ہے،جس سے ملحقہ آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔لوگوں کی محفوظ مقام پر منتقلی کیلیے ریسکیو ٹیم ،شہری دفاع اور آرمی ہیلی کاپٹرز کی مدد سے امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں ۔ڈپٹی کمشنر کا کہا ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو ڈیم سے ملحقہ دیہات کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔ ادھردریائے نیلم میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے ۔ مظفرآباد کے گاؤں ہوتھلہ میں لینڈ سلائڈنگ کے سبب کئی مکانات خالی کرالیے گئے ہیں ۔چڑق پورہ کے مقام پر بیس مکانات کے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کردیاگیا۔مظفر آباد متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ سیکٹریری جنگلات محمد سلیم بسمل کے مطابق محکمہ جنگلات کے ایک لاکھ مکعب فٹ عمارتی لکڑی سیلاب سے بہہ کر منگلا میں پہنچ گئی،اتنی ہی لکڑی مزید بہہ رہی ہے جبکہ آزادکشمیر کی شاہراہوں کو کھلا رکھنے کیلئے حکومت نے فوری طور پر چار ملین روپے محکمہ ورکس کو جاری کردیا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اورمتاثرین کو ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی ۔طوفانی بارشوں سے گلگت بلتستان کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔گلگت میں سیلابی ریلے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سی ایم سیکریٹریٹ بھی زیر آب آگیا ہے ۔بارگو بالا اور باگو پائن کے دونوں رابطہ پل سیلاب میں بہہ جانے سے چھ ہزار افراد محصور ہو گئے ہیں ۔چلاس میں مکان گرنے سے خاتون سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقہ بسین میں آرمی نے کشتیوں کے ذریعے لوگوں اور سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے کابینہ کے اجلاس میں سیلاب سے متاثر ہونیوالے تمام علاقوں کیلئے خیمے،راشن اور ادویات فوری طور پر پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔