5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
خیبرپختونخوا میں سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی،800 جاں بحق
جنگ نیوز -
پشاور . . . . . . پاکستان میں آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہے۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث800 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں،کوہستان کی وادئ دبیر میں پھسنے غیر ملکیوں سمیت ہزاروں افراد آج تیسرے روز بھی حکومت کی امداد کے منتظر ہیں ،26غیر ملکیوں کو نکال لیا گیا۔سوات اور شانگلہ میں سیلاب کے باعث300 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔پہاڑوں پر موسلادھار بارش کے بعد آنے والے سیلاب سے کوہستان کی وادئ دبیر میں ہزاروں لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں ۔دو سو غیر ملکی بھی اپنے سیکورٹی عملے کے ساتھ بھوکے پیاسے اس علاقے میں موجود تھے ،جن میں سے26 غیر ملکیوں کو ہیلی کاپڑ کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، مزید کو نکالا جارہا ہے۔وادی دبیر، وادئ کندیا اور پٹن میں پھنسے ہزاروں افراد کو نکالنے کے لیے ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔دریا کنہار میں سابق وفاقی وزیر سید کاظم شاہ کے بھائی سید نور الدین سیلابی ریلے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق سوات میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد151 سے زائد جب کہ شانگلہ میں158 سے زائد ہو گئی ہے ۔ سوات میں سب سے زیادہ تباہی بحرین ،مدین ،کالام ،کانجو ،کبل اورمینگورہ میں ہوئی ہے جہاں سیلاب سے ڈیڑھ سو سے زائد رابطہ پل اورچھ بڑے پل ،چار سو سے زائد مکانات اور دس اسکول تباہ ہوگئے ہیں ۔ضلع نوشہرہ میں سیلاب سے نوشہرہ کلاں، نوشہرہ چھاؤنی، پیر سباق، پشتون گڑھی ،امان گڑھ اور پبی سمیت کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ڈی پی او نوشہرہ نثار تنولی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے محب بانڈہ سے مزید چھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں ۔ادھر نوشہرہ کلاں میں ریسکیو آپریشن کے دوران کشتی الٹنے سے5 افراد جاں بحق ہو گئے ۔جبکہ ضلع بھر میں سیلاب میں پھنسے ہوئے چار ہزار دو سو افراد کو ریسکیو آپریشن کے ذریعے نکال لیا گیا اور مزید کے لئے آپریشن جاری ہے۔سیلاب سے ڈیرہ اسماعیل خان کے کئی علاقے بھی زیر آب آگئے ہیں ۔ یہاں انتظامیہ اور فوج مشترکہ ریلیف آپریشن کررہی ہے ۔متاثرہ علاقوں میں پانچ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاہم اب بھی بڑی تعداد میں متاثرین امداد کے منتظر ہیں ۔چارسدہ میں سیلاب کے پانی کی سطح بتدریج کم ہونے کے ساتھ امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔ تحصیل شب قدر کے علاقے مروزے سے سیلاب میں بہنے والے تین افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔مہمند ایجنسی میں منڈا ہیڈ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہنے والی تین لاوارث لاشوں کو سول اسپتال شب قدر منتقل کردیا گیا ۔کرک کے علاقے تختی نصرتی میں سیلابی ریلے میں بہہ کر دو بچے جاں بحق ہو گئے ۔لکی مروت میں دریا کرم سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔اپر دیرمیں سیلاب سے چار سو اسی مکانات ،چونتیس اسکول ،چھ بڑے پل ،اٹھائیس رابطہ پل،ہزاروں ایکڑ زرعی زمین اور شہید بے نظیر بھٹو یونی ورسٹی کا ایک شعبہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔دیر کوہستان ،دیر چترال اور دیر براول سمیت مرکزی شاہراہیں ہر قسم کے ٹریفک کے لئے بند ہیں ۔