5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
سیلاب کا بڑا ریلاجلد سندھ سے گذرنے والا ہے
جنگ نیوز -
کراچی…دریائے سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے،جبکہ تین سے گیارہ اگست کے دوران اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔سیلابی ریلا دریائے سندھ میں تین اگست کو گدو کے مقام پرداخل ہوگاجہاں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے اور پانی کی مقدار چھ سے سات لاکھ کیوسک ہوگی۔ چار اگست کوغیرمعمولی انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورت حال کے ساتھ پانی کی دس لاکھ پچاس ہزار کیوسک تک آمد متوقع ہے۔ سکھر کے مقام پر چار سے سات اگست تک دس لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ کوٹری کے مقام پر سات اگست سے اونچے درجے کے سیلابی ریلے داخل ہوں گے اور گیارہ اگست تک انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورت حال اختیار کرتے ہوئے پانی کی سطح آٹھ لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔صوبے میں سکھر، نواب شاہ، جامشورو، نوشہروفیروز،کشمور، لاڑکانہ، دادو، حیدرآباد، کوٹری اور ٹھٹہ کے اضلاع میں کئی علاقے سیلاب کی زد میں آسکتے ہیں۔حکومت سندھ کے محکموں آبپاشی، ریلیف ، صحت تعلیم ، ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ پاکستان آرمی ،رینجرز،اور پولیس نے صورت حال سے نمٹنے کے لئے کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ متوقع متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کاکام شروع کردیا گیا ہے۔صوبائی وزیرآبپاشیجام سیف اللہ دھاریجو کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقام پر اب بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔سیلابی ریلوں کی متوقع آمد کے پیش نظر حساس اور حساس ترین مقامات کو فوری اقدامات کے ذریعے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے جس میں صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کر کردار اہم ہوگا ۔