5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
دریائے سندھ میں طغیانی ، کچے کے متعدد دیہات زیر آب
جنگ نیوز -
کراچی …دریائے سندھ میں طغیانی سے کچے کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوج کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جارہی ہے۔گڈوبیراج میں پانی کی آمد2لاکھ 92ہزار890کیوسک جبکہ اخراج 2لاکھ 79ہزار738کیوسک ہے۔ پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کے علاقے میں درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی ہے۔ سکھر بیراج میں بھی پانی میں اضافہ جاری ہے،جس سے پنوں عاقل کے کچے کے علاقے میں بارہ دیہات زیر آب آگئے ہیں ۔دریا کے بائیں کنارے روہڑی لینس ڈاؤن برج کے قریب دو آرا مشینیں اور لکڑیوں کا بڑا ذخیرہ زیر آب آگیا ہے۔ڈی ڈی او سکھر محمد سمیر کے مطابق سکھر کے متاثرہ علاقوں کیلئے بیس ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں ۔دادو میں بھی سیلابی پانی سے کچے کے کئی دیہات زیر آب آئے ہیں ۔ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وہاں موجود افراد کو زبردستی نکالنا شروع کردیا ہے اور41 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں ۔لاڑکانہ میں دریائے سندھ میں پونے دو لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ جاری ہے۔ گذشہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یہاں پچیس ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ایک بار پھر کچے کے علاقے میں واقع80 دیہات کے باشندوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے لیے اپیل کی ہے۔ ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر آٹھ امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔کوٹری بیراج میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہورہاہے۔یہاں کچے کے علاقے سے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔دوسری جانب صوبائی وزیر فشریز زاہد بھرگڑی نے کہاہے کہ ممکنہ اونچے سیلاب سے حیدرآباد کی آبادی کو خطرہ ہے اور حیدرآباد قاسم آباد اور تعلقہ لطیف آباد کو خطرناک قرار دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ نقصان کا ذمہ دار محکمہ آب پاشی ہوگا۔سندھ کے مختلف گیریژن ہیڈ کوارٹرزسے پاک فوج کے دستے کشمور، لاڑکانہ ، نواب شاہ ، ٹھٹھہ ، جام شورو ، دادو، خیرپور ، گھوٹکی اور نوشہروفیروز کے حساس مقامات پر پہنچ گئے ہیں۔