5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
ججوں کی تعیناتی کے عمل میں وزیر اعظم کو یکسر نکال دیا گیا،چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا نظام پارلیمانی طرز حکومت ہے، صدر وزیر اعظم کے مشورے پر عمل کرتا ہے، ججوں کی تعیناتی کے عمل میں وزیر اعظم کو یکسر نکال دیا گیا ہے۔18 ویں ترمیم کیس کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل وسیم سجاد کے دلائل جاری ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی ججوں کی تقرری کی سفارشات براہ راست صدر کو کیسے بھیج سکتی ہے، جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو ویٹو کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، جوڈیشل کمیشن کا کردار ثانوی ہے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ آئینی کمیٹی کے ریکارڈ کے مطابق ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نو گھنٹے بحث نہیں ہوئی، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر صرف ایک دن میں فیصلہ کر دیا گیا۔ ڈیڑھ سو سال پرانا طریقہ کار ایک دن میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ججز کی تقرری کا پرانا طریقہ بھی خامیوں سے پاک نہیں تھا، ججز کی تقرری کے نیا طریقہ کار میں ایسی خامیاں ہیں کہ یہ فوری طور پر قابل عمل نہیں ۔وفاق کے وزیر وسیم سجاد نے دلائل دیتے ہوئے کہا میثاق جمہوریت میں تھا کہ ججز تقرری کیلئے علیحدہ پارلیمانی کمیٹی ہونی چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کا ججز تقرری میں کچھ کردار ہونا چاہیے ، جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ ججز تقرری کا مکمل اختیار پارلیمنٹ کو دے دیا جاتا۔ جسٹس رمدے کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کو کیوں خراب کیا جا رہا ہے ، جسٹس شاہد اختر صدیقی نے ریمارکس دئے کہ جوڈیشل کمیشن یا پارلیمانی کمیٹی میں سے حتمی اختیار کس کا ہو گا، وسیم سجاد نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا اختیار حتمی ہو گا، تاہم پارلیمانی کمیٹی اسے دیکھ سکے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کوشش کی ہے ، جسٹس رمدے نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ بچے ایک بار پھر ٹھڈے کھائیں اور دانت تڑوائیں ، وسیم سجاد نے کہا کہ ججز کی تقرری کا طریقہ کار غلط ہے یا صحیح ، پارلیمنٹ نے تبدیل کر دیا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ نیم دلی سے کیوں دلائل دے رہے ہیں ، غلط یا صحیح کا کیا مطلب ہے۔