5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
خیبر پختونخوا :سیلابی پانی کی سطح کمی،پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری
جنگ نیوز -
پشاور…خیبر پختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے اور پاک فوج کی جانب سے ریلیف آپریشن جاری ہے تاہم کئی علاقوں میں اب بھی ہزاروں لوگ امداد کے منتظر ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں پاک فوج کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔پہاڑ پور اور ڈیرہ بکھرروڈ پر متاثرین کیلئے دوامدادی کیمپس قائم کئے گئے ہیں جبکہ اب بھی کئی علاقوں میں ہزاروں لوگ سیلابی علاقوں میں پھنسے ہیں۔تحصل پروآ میں متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہے جس کے باعث ہزاروں لوگ ان علاقوں میں محصورہیں،جبکہ پہاڑ پور کے علاقے ٹھٹھہ بلوچاں میں پھنسے چارسوخاندانوں کو نکالنے کیلئے پاک فوج کے جوان تین بوٹس کے ہمراہ روانہ ہوگئے ہیں۔چارسدہ میں متاثرین کے لئے ضلع بھرمیں پانچ سو کیمپ قائم کئے گئے ہیں جن میں لاکھوں متاثرین پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے حکومت کی جانب سے سروے کیاجارہاہے۔صوبائی وزیرقانون بیرسٹرارشدعبداللہ کی سربراہی میں امدادی کاموں کی نگرانی کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے ضلع بھر میں22 موبائل میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جوکہ متاثرین کو طبی امداد فراہم کررہے ہیں۔ کوہستان کی وادی کندیا،دبیر،پٹن اور سپٹ میں پھنسے ہزاروں افراد آج چھٹے روز بھی امداد کے منتظرہیں۔داسومیں بھی8جاپانی سیاح تاحال پھنسے ہیں۔ وادی دبیر میں پھنسے چینی باشندے پیدل پٹن پہنچ گئے جس کے بعد پٹن میں پھنسے چینی باشندوں کی تعداد112ہوگئی ہے جنہیں نکالنے کیلئے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیوآپریشن دوبارہ شروع کردیاگیاہے۔حکومت کی جانب سے امدادی کارروائی میں تاخیر پرسابق ایم این اے اور ڈسٹرکٹ خطیب مولانا محمد امین کی کال پر آج سے ضلع کے تمام علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔داسو میں سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔پاک فوج کی جانب سے ضلع سوات اور شانگلہ کے علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے اور متاثرہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش اور ادویات پہنچائی جارہی ہیں۔ کالام بحرین اور مدین کے تمام رابطہ پل تباہ ہوچکے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد ان علاقوں میں محصور ہوگئے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ سیلاب سے مکانات تباہ ہونے کے بعد مقامی افرادکھلے آسمان تلے زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے تاحال کوئی ریلیف کیمپ بھی قائم نہیں کیاگیاہے۔