5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
کسی جج کو نوازا جائے تو وہ کیسے آزاد رہ سکتا ہے،چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…آئین میں18ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کے مقدمہ میں وفاق کے ایک وکیل ابراہیم ستی نے آج غیرمتوقع دلائل دئے اور کہا کہ پارلے منٹ کو آئین میں ترمیم کے محدود اختیارات ہیں، ججوں نے ریمارکس میں کہا ہے کہ کسی جج کو نوازا جائے تو وہ کیسے آزاد رہ سکتا ہے ، آئینی توڑنے کیخلاف موجود آرٹیکل ہمارے ملک میں صرف نمائشی حیثیت کا حامل رہا ہے ۔چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے17رکنی بنچ نے18ویں ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کی تو وفاق کے وکیل سردار غازی نے دلائل مکمل کئے۔ ان کے بعد اس مقدمہ میں وفاق کے تیسرے وکیل ابراہیم ستی نے دلائل دیئے اور کہا کہ عدالت کو آئینی ترامیم کے جائزہ کا اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں عدالتی فیصلوں کے ردعمل میں آئینی ترامیم کی گئیں ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ کسی جج کو نوازا جائے تو وہ کیسے آزاد رہ سکتا ہے ، جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی یا مارشل لا ادوار میں ایسے جج لئے جاتے ہیں تو ارباب اختیارکی خواہشات کا احترام کرتے ہیں ، پاکستان میں آئین کی خلاف ورزی سے متعلق آرٹیکل6، نمائشی ہے ، ابراہیم ستی نے مزید دلائل میں کہا کہ پارلے منٹ کو آئین میں ترامیم کا اختیار نہیں کیونکہ آئینی ترمیم کے لئے ہر ایوان کو دو تہائی اکثریت سے منظوری دینا ہوتی ہے ، بعد میں ابراہیم ستی نے یہ دلائل واپس لے لئے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں عوام کو کبھی آئین سازی کے عمل میں شریک نہیں کیا گیا ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا کہ آپ آئین اور اس سے متعلق ہماری سوجھ بوجھ کی تذلیل نہ کریں ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ایسا تاثر نہ دیں کہ سیاسی ڈھانچے کو خطرہ ہے ،عدالتوں میں کیس آئیں گے، فیصلے ہوں گے اور ملک بھی چلے گا، اس ملک میں جمہوریت اور جمہوری نظام رہے گا، مقدمہ کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔