5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
دریائے سندھ میں طغیانی ، کچے کے علاقے میں مزید دیہات زیر آب
جنگ نیوز -
حیدرآباد . . . .دریائے سندھ میں طغیانی سے سندھ میں کچے کے علاقے میں مزید دیہات زیر آب آگئے ہیں،پاک فوج، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ نے سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ دریائے سندھ میں طغیانی سے کندھ کوٹ اور غوث پور کے کچے کے20 گاؤں اور دادو میں بھی متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ متاثرین کے لیے تنگوانی، کندھ کوٹ اور کشمور میں28 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں ۔ ادھر دادو ضلع میں انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔نواب شاہ کے قریب مڈ منگلی حفاظتی بند پر پانی کا دباؤ مسلسل بڑھتاجارہا ہے جس سے بند میں کٹاؤ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ نواب شاہ میں کچے کے بعض علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے ۔ تونسہ بیراج سے گزرنے والاسیلابی ریلا گڈوبیراج پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔ کوٹری بیراج پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور کنارے پر آباد لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے ۔ تاہم قاسم آباد،حسین آباد اور لطیف آبادکے مکینوں نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے سے انکار کردیا ہے۔پنوں عاقل چھاؤنی سے خیر پور، نوشہرو فیروز، کشمور اورجانے والے فوجی دستوں نے حساس پشتوں کی نگرانی شروع کردی ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے لاڑکانہ خیرپور پل کے مقام پر دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سکھر اور لاڑکانہ میں دریائے سندھ کے حفاظتی بند میں90مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع گھوٹکی کے علاقے قادر پور لوپ بند پر سیلابی ریلے کے باعث بند کے اطراف کچے کے علاقوں میں سیلابی پانی نے متعدد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پاک فوج ، رینجرز اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے عملے نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر نا شروع کر دیا ہے۔