تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

اس وقت پاکستان کو مغرب کی تنقید نہیں تعاون چاہیے،گوندل

جنگ نیوز -
برلن…رضا چوہدری/نمائندہ جنگ…جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ’قوموں کا امیج اور پاکستان کا مقدمہ‘ کے عنوان سے سیمنار منعقد ہوا، سیمنار کا اہتمام ’انسٹی ٹیوٹ فار کلچرل ڈپلومیسی‘ نے کیاتھا۔سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ’پاکستان جرمن کونسل فار کلچر اینڈ ڈیموکریسی‘ کے صدر شاہدریاض گوندل نے کہا کہ مغربی میڈیا پاکستان کو ہمیشہ تنقید کی زد میں رکھتا ہے لیکن اب مغرب کی سیاسی قیادت نے بھی سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان پر تنقیدی حملے شروع کردیے ہیں۔ انھوں نے کہا موجودہ حالات ، تباہی ، دہشت گردی اور تشدد کا نہ تو پاکستان اکیلا ذمہ دار ہے اور نہ ہی اس کی ساری ذ مہ داری مغربی ملکوں پر ڈالی جاسکتی ہے۔ یقینا پاکستان کے پالیسی ساز وں سے ماضی میں اپنی ترجیحات کے تعین میں غلطیاں سر زد ہوئی ہیں ، لیکن جو حقیقت آج بالکل واضح اور سب کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم بذاتِ خود آج دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ ہے،موجودہ حالات میں پاکستان کو مغرب کی تنقید نہیں بلکہ تعاون چاہیے۔ شاہد ریاض گوندل نے مغربی میڈیا کے دہرے میعار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کے اندر سترہ کے قریب علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں، کروڑوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر سوتے ہیں،وہاں پر عیسائیوں کے چرچ جلائے جاتے ہیں، مسلمانوں کی مساجد گرائی جاتی ہیں ، ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، پنجاب میں سکھوں کے دیہات، کھیت اور کھلیان ویران کئے جاتے ہیں، عالمی تنظیموں کے اعدادوشمار کے مطابق ہزاروں کشمیریوں کا خون بہایا جاتا ہے ،ذات پات کا نظام انسانی حقوق اور انسانی تکریم کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایک ذات کا ہندو دوسر ی ذات کے مندر میں داخل نہیں ہوسکتا مگر ان ساری حقیقتوں کے باوجود مغربی میڈیا میں نڈیاکا ذکر صرف یوگا ،بالی ووڈ اور آئی ٹی کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔سیمنار سے دنیا کے نام ورسیاست دانوں، سفارت کاروں، دانش وروں سمیت مارکٹنگ، ایڈورٹائزمینٹ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے خطاب کیا۔ شاہدر یاض گوندل نے ملٹی میڈیا کی مدد سے پاکستان کی قدیم تاریخ ،عظیم ثقافتی ورثہ ، نئی تاریخ ، اس کی جغرافیائی خوبصورتی ، پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ سیمنار میں سوال اور جواب کی نشت بھی ہوئی جو ڈیڑہ گھنٹہ جاری رہی۔ سیمینار میں ایمبیسی آف پاکستان برلن کے ہیڈ چانسلر خیام اکبر اور پریس کونسلر غلام حیدر مستقل مندوب کے طور شریک تھے اور سیال کوٹ کے ہاتھ سے بنے فٹ بال بھی نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔






متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.