5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
خیبر پختونخوا،بد ترین سیلاب میں ریسکیو کے بعد امدادی کارروائیاں جاری
جنگ نیوز -
پشاور…خیبر پختون خوا میں آنے والے تاریخ کے بد ترین سیلاب میں ریسکیو کے بعد اب امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دور دراز کے اضلاع کوہستان، شانگلہ، دیر لوئر اور اپر دیر میں اب بھی لاکھوں افراد بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔27 جولائی کو موسلادھار بارشوں کے بعد صوبہ خیبر پختون خوا کے 22 اضلاع سیلاب سے شدید متاثر ہوئے تھے۔ضلع نوشہرہ میں نو دن گذرنے کے بعد بھی کئی دیہات اب بھی سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔صوبے کے دیگر 21 اضلاع میں سیلاب کا پانی ختم ہو گیا ہے تاہم لوگ اپنی مدد اپ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ تاریخ کے بد ترین سیلاب میں پھنس جانے والے لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بعد اب انہیں ریلیف پہنچانے کا کام جاری ہے۔ صوبے کے مختلف مقامات پر صوبائی حکومت، پاک فوج اور سماجی اداروں نے امدادی کیمپ قائم کر دیے ہیں جہاں متاثرین سیلاب کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی جانب سے بھی متاثرین سیلاب کے لئے کمبل، خیمے، ادویات، پانی اور اشیائے خوردونوش بھیجی جا رہی ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کو طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے تمام امدادی کیمپوں میں فری میڈیکل کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں جبکہ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھجوا دی گئی ہیں۔صوبائی حکومت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے سروے بھی شروع کر دیا ہے جس کے بعد متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ادھر دریائے سوات میں خوازہ خیلہ،نوشہرہ اور انڈس ریور میں چشمہ کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔فلڈ وارننگ سیل کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق خوازہ خیلہ میں پانی کا اخراج انیس ہزار ایک سو چھیالیس، نوشہرہ میں پانی کا اخراج ایک لاکھ بیالیس ہزار آٹھ سو پچیس اور چشمہ میں پانی کا اخراج چھ لاکھ تیرہ ہزار پانچ سو چوبیس کیوسک ہے جبکہ دریائے سوات میں منڈا، وارسک،کالاباغ اوراٹک خیرآباد کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے منڈا میں پانی کا اخراج چھتیس ہزار ایک سو چوالیس، وارسک میں پانی کا اخراج چھپن ہزار سات سو پچاس، کالاباغ میں پانی کا اخراج چار لاکھ تہترہزارپانچ سو اکیاون اور اٹک خیرآباد میں پانی کا اخراج چار لاکھ باسٹھ ہزار کیوسک ہے۔ اس طرح صوبے کے دیگر دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال کم درجے کی ہے۔