تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

71 کے حالات عوامی رائے کواہمیت نہ دینے سے پیدا ہوئے ، سپریم کورٹ

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ میں بالواسطہ ریمارکس میں کہا ہے کہ دس ، دس سال تک پارلے منٹ موجود نہ ہونے والے حالات سے قوم کی جان اس وقت بچی جب مشرف دور کا خاتمہ ہوا ، اس مقدمہ میں وفاق کے ایک وکیل ابراہیم ستی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز تقرر کا پرانا طریقہ ، فرسودہ اور ناکام ہوگیا تھا ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے 18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کی وفاق کے وکیل ابراہیم ستی نے دلائل جاری رکھے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قوم دس ، دس سال پارلے منٹ سے محروم رہی اور یہ حالات 1970 کے بعد سے پیدا ہوتے رہے تاہم ، ان سے قوم کی جان18 اگست کو چھوٹی ، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ70 کے بعد پیدا حالات کی وجہ وہ سوچ تھی جس میں عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی ، جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ1971 کے حالات بھی ، عوامی رائے کو اہمیت نہ دینے والی سوچ کے باعث پیدا ہوئے تھے ۔ایک موقع پر چیف جسٹس نے ابراہیم ستی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ آپ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ آپ نے ابھی تک ججز تقرر کے آرٹیکل175 اے پر کوئی بات نہیں کی ، جسٹس رمدے نے وفاق کے وکیل کو کہا کہ آپ عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں ، اس پر ابراہیم ستی نے دلائل میں کہا کہ ججز تقرر کا پرانا طریقہ فرسودہ اور ناکام ہوگیا تھا، اس لئے آرٹیکل175 میں ترمیم کی گئی ، انہوں نے کہا کہ ججز تقرر پر جھگڑا اس لئے ہوا تھا کہ الجہاد کیس کے بعد عدالتوں نے آئین لکھنا شروع کردیاتھا۔ ابراہیم ستی نے ایک موقع پر جب یہ کہا کہ ججز تقرر میں پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت ڈاک خانے کی ہوگی ، تو عدالت نے اس بیان کو تحریری شکل دینے کی ہدایت کردی، اس پر ابراہیم ستی نے اپنے یہ الفاظ واپس لے لئے، مقدمہ کی مزید سماعت کل ہوگی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.