5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
خیبر پختونخوا میں سیلاب کے بعد اشیا خوردونوش کی قلت،لوگ امداد کے منتظر
جنگ نیوز -
پشاور....خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی اور لوگ امداد کے منتظر ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور اب تک گیارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ،137 دیہات شدید متاثرہ ہوچکے ہیں۔ اب تک150 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ سیلابی پانی سے انڈس ہائی وے تین مقامات پر بند ہے۔ سوات کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں مدین، بحرین اور کالام میں اشیا خوردونوش اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے اور لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں، وادئ کالام میں اب بھی ہزاروں کی تعدادمیں لوگ پھنسے ہوئے ہیں. سوات کے علاقے بری کوٹ میں فصلیں سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں۔نوشہرہ میں سیلاب کے بعد حکومت کی جانب سے کوئی امدادی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ریلیف کیمپ میں متاثرین کیمپ نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ بلاک کردی۔ بارش کے باعث کوہستان اور بٹگرام میں بھی تباہی آئی ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جنرل منیجر برائے شمالی علاقہ جات مکیش کمار نے بتایا ہے کہ بٹگرام اور کوہستان کے درمیان شاہراہ قراقرم کو قابل استعمال بنانے کے لئے فوری طور پر593 ملین روپے کی منظوری دیدی گئ ہے۔ لکی مروت میں پہاڑ خیل کے قریب دریائے گمبیلہ کے سیلابی پانی میں دوبچے ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔