5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
پنجاب سے آنیوالا سیلابی ریلا سندھ میں داخل،بندوں کی نگرانی سخت
جنگ نیوز -
حیدرآباد....پنجاب سے آنے والا سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگیاہے۔ گڈوبیراج پرپانی کے بہاؤمیں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔سکھر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بارش کے باعث محکمہ آب پاشی، پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں نے حساس بندوں کی نگرانی سخت کردی ہے۔ گڈوبیراج میں پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ30 ہزار کیوسک سے بھی تجاوز کرگیا۔اور ہر آدھے گھنٹے بعد دس سے بارہ ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہورہاہے ۔ گوٹھ بخشن سمیت کئی دیہات میں پانی داخل ہوگیاہے اورلوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔دریائے سندھ میں طغیانی سے کندھ کوٹ اور غوث پور کے کچے کے20 گاؤں اور دادو میں متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ متاثرین کے لیے تنگوانی، کندھ کوٹ اور کشمور میں28 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں ۔ ضلع دادومیں انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔جی او سی حیدرآباد میجر جنرل شوکت اقبال نے دادو مورو پل پر بند کے کمزور حصوں کا معائنہ کیا۔نواب شاہ کے قریب مڈ منگلی حفاظتی بند پر پانی کے دباؤ سے کٹاؤ کے خطراتبڑھ گئے ہیں۔ نواب شاہ میں کچے کے بعض علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔شکارپور میں بارش کے باعث خان پورمیں بیس مکانات کی چھتیں گر گئیں ،جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور33 افرادزخمی ہوگئے۔خیرپورکی تحصیل کنگری کے گوٹھ موہل سمیت تیس دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوگیا،اور فصلیں زیر آب آگئیں۔ حساس قرار دئے جانے والے والے الرا جاگیر بند، فرید آباد بند اور راضی ڈیرو بند کی نگرانی کیلئے پاک فوج اور رینجرز کے جوان تعینات ہے۔کوٹری بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ اڑتیس ہزارچارسواٹھائیس اور اخراج ایک لاکھ25 ہزار سات سو94 ہے۔ٹھٹھہ میں سجاول منارکی بند حساس ہوتاجارہاہے اور دومقامات پر پانی تیزی سے پشتوں کو کاٹ رہاہے۔جی اوسی حیدرآبادشوکت اقبال ٹھٹھہ پہنچے اورحساس بند کامعائنہ کیا۔ٹنڈوحافظ محمد میں سیلابی ریلے میں ایک شخص بہہ گیا جس کی تلاش جاری ہے ۔