5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
بھارتی فوج کی گزر بسر،باسی اور گلے سڑے کھانے پر،رپورٹ
جنگ نیوز -
نئی دہلی . . . سینٹرل مانیٹرنگ . . . ایک فوج اپنے پیٹ کے بل بوتے پر پیش قدمی کرتی ہے اور یہ کہاوت مشہورفرانسیسی سیاسی و ملٹری لیڈرنپولین بوناپارٹ کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم بھارتی فوج میں معاملہ اس کہاوت سے بالکل اُلٹ ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اورشمال مشرقی حصوں میں تعینات بھارتی فوجی قافلے غیر معیاری غذا کھانے پر مجبور ہیں۔خطہِ ارض کی تیسری بڑی فوج مانی جانے والی بھارتی فوج ناصرف باسی اور سڑا ہوا کھانا کھاکر گزر بسر کررہی ہے بلکہ دوسری جانب کئی بڑے افسران گوشت،انڈے،آٹا اور دال کی خرید و فروخت کے معاملے میں بدعنوانیوں کے اسکینڈلز میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔حال ہی میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج کو راشن سپلائی کے انتظام میں بد عنوانیاں پائی جاتی ہیں اور گذشتہ کئی سالوں سے مختلف حصوں میں تعینات فوجی قافلوں کو غیر معیاری راشن فراہم کیا جارہا ہے جسے وہ بلا عذرکھارہے ہیں۔آڈیٹرز کے مطابق گوشت ،انڈے،دال،آٹے،چینی اور چائے کے ساتھ ساتھ تازہ سبزیوں ،پھلوں اور گوشت کی خریداری کا طریقہ کار بھی درست نہیں ہے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی قافلوں کو زائد المیعاد کھانے تک بھیج دیے جاتے ہیں۔رپورٹ میں آڈیٹرز کی جانب سے بھارتی پارلیمنٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ بھارتی فوج کے لیے راشن کی خریداری اور بد عنوانیوں سے مبّرا سپلائی کے نظام کو ازسرِ نو ترتیب دیا جائے۔