تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

سندھ میں سیلاب،147بند حساس جن میں10انتہائی حساس قرار

جنگ نیوز -
حیدر آباد…گڈوبیراج میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے بعد بیراج سے ملحقہ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ٹھٹھہ، خیرپور اور سکھر کے کچے کے علاقوں میں سیلاب متاثرہ علاقوں سے پاک فوج کے جوان لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔ادھر چیف سیکریٹری سندھ کے مطابق سندھ بھر کے147بندوں کو حساس قرار دیا گیا جن میں 10بند انتہائی حساس ہیں تاہم گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج کو کوئی خطرہ نہیں۔گڈوبیرا ج سے اس وقت آٹھ لاکھ چالیس ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے بعد بیراج سے ملحقہ کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور سیلاب میں پھنسے لوگوں کو پاک فوج کے جوان محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں جبکہ پاک فوج کے جوانوں نے گھوٹکی میں قادرپور لوپ بند کی ہنگامی مرمت بھی شروع کردی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے گڈوبیراج کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ سیلابی صورت حال سے نمنٹے کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔لاڑکانہ میں نصرت اور آگانی لوپ بندوں سے تین لاکھ کیوسک سے زاید پانی کا بہاؤ جاری ہے اور پاک فوج کے ساڑے چار سو جوان دن رات پشتوں کی نگرانی پر مامور ہیں جبکہ کچے کے 80 دیہات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کا کام بھی جاری ہے تاہم بارش کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔نوابشاہ کے علاقے سکرنڈ ،قاضی احمد اور دولت پور میں بھی حفاظتی انتظامات کیے جارہے ہیں ۔ایس ایم مڈ بند حساس قراردیے جانے کے بعد بھاری مشینری ،پتھراورعملہ بند پر پہنچا دیا گیاہے۔خیرپور اور گردونواح میں موسلا دھار بارش سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب ہیں۔نصیرفقیر جلالانی کے علاقے میں پہاڑوں سے برساتی ریلے گرنے سے سیلاب آگیا ہے ۔تحصیل کنگری میں جمشید لوپ تک پانی آجانے کے باعث بند کو نقصان پہنچ رہاہے اورپانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو پاک فوج کے اہلکارریسکیوکرنے میں مصروف ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کنگری، گمبٹ اور سوبھوڈیرو کے کچے کے علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔دوسری جانب کوٹری بیراج میں بھی پانی کی سطح بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔چیف سیکریٹری سندھ فضل الرحمن نے حیدرآباد میں میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں 147بندوں کو حساس قرار دیا گیا جن میں 10بند انتہائی حساس ہیں تاہم گدو، سکھر اور کوٹری بیراج کو کوئی خطرہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لطیف آباد اور قاسم آباد میں سیلابی ریلے کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے جس کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ادھر ٹھٹھہ میں سجاول کے قریب دریائے سندھ کے کنارے منارکی بند کے پشتے میں کٹاؤ سے ایپرن کا بڑا حصہ بہہ گیا ہے جس کے بعد محکمہ آبپاشی کے اہل کار مٹی بھرنے کے کام میں مصروف ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منارکی اورسرجانی بند پر94ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔




متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.