5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
کشمیرکونسل ای یو کی برطانوی وزیراعظم کی مسئلہ کشمیرپر خاموشی پر سخت تنقید
جنگ نیوز -
پیرس …رضا چوہدری/نمائندہ جنگ… آئی سی ایچ ڈی کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی ان کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران مسئلہ کشمیرپر خاموشی اختیار کرنے پر سخت تنقید کی ہے اور کہاہے کہ برطانیہ جیسی بڑی طاقت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اس کی اخلاقی اور بین الاقوامی ذمہ داری سے انحراف ہے۔برطانیہ کے وزیراعظم کو لکھے گئے اپنے ایک تفصیلی خطے میں، علی رضاسید نے کہاہے کہ برطانیہ ایک بڑی طاقت ہے اور اس ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے اور کشمیریوں کو ان کے حقوق واپس دلائے۔ برطانیہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کے پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل میں مدد کرے۔ساٹھ سالوں کے دوران بھارت اور پاکستان کے مابین یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہوسکا اور اب اس کے لیے بین الاقوامی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔برطانیہ کو مسئلہ کشمیرکو سنجیدگی سے لیناہوگا اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری تشدداور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔خط میں کہاگیاہے کہ 1989ءء سے لے کراب تک ایک لاکھ سے زائدکشمیری بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں۔ حالیہ واقعات کا ذکرکرتے ہوئے خط میں بتایاگیاہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 20سے زائد افراد مقبوضہ وادی میں شہید ہوچکے ہیں جن میں آٹھ سالہ بچہ ثمیراحمد بھی شامل ہے۔کیایہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟کیا یہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی نہیں؟ کیا یہ برطانیہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ اس پربات کرے؟برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت سے کشمیریوں پر ظلم وستم کے خلاف بات کرے۔یہ برطانیہ ہی تھاجو مسئلہ کشمیرکو خطے میں باقی چھوڑ گیا جو اب تک حل طلب ہے۔اس سال مئی سے لے کرابتک پچاس سے زائد کشمیری جن میں بہت سے نوجوان بھی شامل ہیں، احتجاج کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔آئے دن کرفیو کی وجہ سے ہسپستالیں زخمیوں کے علاج کرنے سے قاصر ہیں، ادویات نہیں پہنچ رہیں۔ مقبوضہ وادی میں پرامن مظاہرین پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں بے گناہ کشمیریوں کی شہادت ریاستی دھشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حالیہ دنوں کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں سونبال، بیج بہارہ، سوپور، بارامولا اور دوسرے علاقوں میں متعددافراد شہیداور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ نہتے مظاہرین پر حملہ انتہائی قابل مذمت اور بزدلانہ فعل ہے ۔ کشمیری اپنے تسلم شدہ حق خودارادیت کے لیے لڑ رہے ہیں اور بھارت ان کے اس حق کو طاقت کے بل بوتے پر دباناچاہتاہے۔کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید کی طرف سے برطانوی وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں پاکستان پردہشتگردی کے الزامات کو مستردکیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ برطانوی وزیراعظم نے کشمیریوں پر مظالم سے چشم پوشی اختیارکرکے پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے موردالزام ٹھہرایاہے جو زمینی حقائق کے بالکل منافی ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکارہے۔ آئے دن پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملے، دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایاہے۔ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں پچھلے سال ان واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد جابحق ہوئے جبکہ افغانستان میں اسی مدت کے دوران دو ہزار افراد مارے گئے۔ہشت گردی کے خلاف گذشتہ نوسالوں کی جنگ کے دوران بڑی تعدادمیں پاکستانی سیکورٹی فورسزکے جوان شہید ہوچکے ہیں۔