5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
صادق آباد:بھونگ کے قریب دریائے سندھ کا بچاؤ بند ٹوٹ گیا
جنگ نیوز -
صادق آباد…صادق آباد میں بھونگ کے قریب دریائے سندھ کا بچاؤ بند ٹوٹ گیا، سیلابی ریلہ تیزی سے رہائشی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے، صادق آباداور اوباڑو کے دیہی علاقوں کے مکینوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی، جب کہ ڈی سی او رحیم یار خان احمد جاوید قاضی کے مطابق بھونگ کا سیلابی ریلا پنجاب کے دیہاتوں کو متاثرکرتا ہوا سندھ میں داخل ہوگا۔ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے مساجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بچاؤ بند ٹوٹنے کے بعد انتظامیہ نے بھونگ میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے افراد کو واپس بلا لیا ہے،جبکہ حفاظتی بندسے ملحقہ علاقوں سے 85 فیصد آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاجاچکا ہے۔بچاؤ بند ٹوٹنے سے صادق آباد اور اوباڑو کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی ہے۔دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادرآباد میں تین لاکھ پچاس ہزار کیوسک پانی کا ریلا آنے کے بعد اونچے درجے کا سیلاب ہے۔قادرآباد کے قریب کالا شادیاں کے مقام پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے بیس سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔دریامیں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد مظفرگڑھ کے علاقے خان گڑھ اور جھنگ روڈ میں دریا کے کنارے آباد بستیوں سے لوگوں کا انخلا شروع ہوگیا ہے۔ صادق آباد میں بھونگ کے قریب کچی آبادیوں میں سیکڑوں افراد سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ مڈ رانجھا، احسان پور،بنگلا دلکشا، بنگلااچھا اور بنگلی سمکا میں سیلابی پانی کا شدید دباؤ ہے۔ضلع جھنگ میں تریمو ہیڈورکس کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔سیلاب کے باعث جھنگ کی چار تحصیلوں کے دو سو سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں بھی مکمل طورپرتباہ ہوگئی ہیں۔راجن پور کی تحصیل جام پور میں ڈیرھ لاکھ سے زائد آبادی آج تیسرے روز بھی سیلابی پانی میں گھری ہوئی ہے۔کوٹ مٹھن کا حفاظتی بند ٹوٹنے کے بعد حضرت خواجہ غلام فرید کا مزار بھی زیر آب آگیا ہے۔