تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

سیلاب، ٹھٹہ سے عوام کے زبردستی انخلا ء کا حکومتی منصوبہ

جنگ نیوز -
کراچی…چیف سیکریڑی سندھ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کچے کے لوگوں کو ہر صورت میں محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑے گا اور جو لوگ منتقل نہیں ہوں گے انہیں فوج اور رینجرز کی مدد سے زبردستی نکالا جائے گا۔دوسری طرف سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔چیف سیکریڑی سندھ فضل الرحمان نے مکلی میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کی جانب سے سیلاب کے موقع پر بندوں کی صورتحال اور انتظامات کے حوالے سے بریفنگ میں شرکت کی اس دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقے کے لوگ اگر محفوظ مقامات پر منتقل نہ ہوئے تو انہیں فوج اور رینجرز کی مدد سے زبردستی متاثرہ علاقوں سے نکال لیا جائے گا اور ہر ریلف کیمپ کے ساتھ ایک میڈیکل کیمپ قائم کیا جائے گا،جو 24گھنٹے کام کرے گا، لاڑکانہ میں نصرت لوپ بند، عاقل آگانی لوپ بند، پرانا آباد لوپ بند اور حسن واہن لوپ بند کے مقام پر پانی کا بڑاریلا گزر رہا ہے۔سیلاب سے کچے کے سو سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں ۔چار روز قبل بیگاری کینال میں پڑنے والے شگاف کا پانی گولو دڑو کے کچے کے علاقے میں داخل ہونے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔کوٹری بیراج میں مسلسل پانی کی سطح میں اضافے سے حیدرآبادکے قریب ٹنڈومحمدخان کے کاسیارحفاظتی بند سے ملحقہ سترہ دیہات کو حساس قراردیاگیاہے۔ ڈی سی او خیرپور محمد عباس بلوچ کے مطابق فرید آباد اور دیگر بندوں کی صورتحال خطرناک ہے۔پاک فوج اور رضاکار بندوں کی نگرانی کررہے ہیں۔سیلابی ریلا جیکب آباد کے علاقے ٹھل کے بعد مبارک پور کریم بخش اور جیکب آباد شہر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ڈی سی او جیکب آباد کاظم جتوئی کا کہنا ہے کہ ٹھل سے جیکب آباد شہر کی طرف پانی سیلابی پانی 12 سے 48 گھنٹے کے اندر پہنچ جائے گا۔اور پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کنڈھکوٹ، ٹھل، غوث پور اور کرم پور سمیت جیکب آباد کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کا کہنا ہے کہ کوئی حکومتی اہلکار یا ادارہ ان کا پرسان حال نہیں ہے۔دریا سندھ میں گڈو بیراج کے بعد سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح میں کمی ہوگئی ہے، تاہم حساس بندوں اور سکھر شہر کی حفاظتی دیوار پر پانی کا بہاؤ برقرار ہے۔ گھوٹکی کے علاقے جام محمد علی میں ابھی تک دس ہزار افراد دریا میں پھنسے ہوئے ہیں اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔دریائے سندھ میں دادو مورو پل پر پانی کی سطح تیزی سے بُلند ہو رہی ہے۔جبکہ کچے کے 73 گاؤں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔پاک فوج کے جوان سیلابی پانی میں گھرے عوام کو نکالنے میں مصروف ہیں۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.