5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
حقانی گروپ کیخلاف ایکشن کے لیے پاکستان پر دباؤ مناسب نہیں،رپورٹ
جنگ نیوز -
واشنگٹن . . . فارن ڈیسک . . . امریکا نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان سے مدد کی کوششیں ختم کر دیں،امریکی حکام کے نزدیک حقانی گروپ کے خلاف ایکشن لینے کے لیے پاکستان پر دباوٴ برعکس نتائج دے سکتا ہے اور افغان حکمت عملی کے اہم ترین حلیف پاکستان پر امریکی دباوٴ سے تعلقات میں بگاڑ کا امکان ہے۔امریکی اخبار’ وال اسٹریٹ جرنل ‘کی رپور ٹ کے مطابق امریکا نے افغانستان میں امریکی و اتحادی فوجوں کو عسکریت پسندوں کے بڑے خطرے کے خاتمے کے لییمدد کے لیے پاکستان سے لابنگ کرنا بند کردی ہے ۔ امریکی حکام نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انہوں نے پاکستان سے بہتر مدد حاصل ہونے میں ناکامی کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ افغان جنگ کی حکمت عملی کے سب سے اہم پارٹنر کے ساتھ ایسے دباوٴ سے تعلقا ت خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ امریکا نے حقانی گروپ کے خلاف بڑے آپریشن کے لیے پاکستان پر دباوٴ ڈالا تھا۔ حقانی کا القاعدہ سے تعلق ہے جو سرحدی علاقوں کو کنٹرول کرتا ہے جہاں امریکیوں کے خیال میں اسامہ بن لادن چھپا ہو اہے۔ لیکن امریکی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ حقانی گروپ کے خلاف ایکشن کے لیے پاکستان پر دباوٴ ڈالنا غلط نتائج دے گا۔ان کے خیال میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو اس گروپ کو تحفظ دے رہے ہیں۔گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والے ایڈمرل مائیکل مولن نے حقانی گروپ کے خلاف آپریشن کے لیے پاکستان کے سامنے مسئلہ نہیں اٹھایا۔پاکستانی حکام نے ان کی کوششوں اور قربانیوں کے بارے امریکی نکتہ نظر کو مسترد کردیا۔