تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

سپریم کورٹ کی ڈیڈلائن ختم،جیو نیوز کی نشریات بحال نہ ہوئیں

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمدچوہدری کی جانب سے چیئر مین پیمرا کودوپہر ساڑھے بجے تک جیو نیوز کو کھولنے کیلئے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ہے ،اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک جیو نیوز کی نشریات نہیں کھولی گئی ہیں۔ جیو نیوز اور اے آر وائی کی بندش کے خلاف دائر دو درخواستوں کے مقدمہ کی سماعت آج ، چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ میں ہوئی ۔عدالت کی طلبی پر اطلاعات اور داخلہ کے وفاقی سیکریٹریز ، چیئرمین پیمرا وہاں پیش ہوئے ۔ عدالت کے استفسار پر چیئر مین پیمرامشتاق چوہدری نے بتایا کہ جیو نیوز کی نشریات بحال ہوچکی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ جھوٹ مت بولیں۔ان کا کہنا تھا کہ نشریات بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کیوں نہیں کئے گئے، آپ فرائض سے کوتاہی اور آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا بریک ڈاؤن ہوگیا تو بات بہت آگے چلی جائے گی، آرٹیکل19 اور19اے کی خلاف ورزی پر پتوکی کے کیبل آپریٹر کو نہیں متعلقہ وفاقی سیکریٹری کو پکڑیں گے ،چیئرمین پیمرا سے تحریری یقین دہانی طلب کرلی اور کہا کہ چینلز آج بحال نہ ہوئے تو آپ جیل میں ہوں گے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ کیبل آپریٹرز کو پیمرا کنٹرول کرتی ہے اورنشریات جاری رکھوانے کیلئے پیمرا نے کارروائی نہیں کی۔اس سے قبل درخواست گزار وکیل اکرم شیخ نے ابتدائی دلائل میں کہا کہ برمنگھم میں پیش آنے والے واقعہ کی خبر عالمی میڈیا کے ساتھ پاکستانی چینلز نے بھی نشر کی ، اس کے بعد پاکستان میں میڈیا کو ہراساں کیا گیا ، جنگ اور دی نیوز کے بنڈل چھین کر جلا دیئے گئے ، کیبل آپریٹرز پر پٹرول بم بھی پھینکے گئے ، چیف جسٹس نے سوالیہ ریمارکس دیئے کہ کیا ملک میں امن و امان قائم کرنے والا کوئی ادارہ موجود ہے ، اب تک قانون حرکت میں کیوں نہیں آیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کی نشریات کو محض کیبل آپریٹرز کے رحم و کرم پر چھوڑا نہیں جاسکتا، آپریٹرز کو بزور طاقت نشریات دکھانے سے روکنے پر پیمرا کو ایکشن لے کر آئی جی پولیس اور سیکریٹری داخلہ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قومی اہمیت کا معاملہ ہے کیونکہ آج سیلاب کی تباہ کاریوں کے حالات سے باخبر رہنا ہر شخص کا حق ہے اور نشریات روکے جانا پریس اور اطلاعات کی آزادی سے متعلق آئین کے آرٹیکل19 اور19 اے کی خلاف ورزی نظر آتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.